پیٹرول اور گیس سے متعلق حکومتی فیصلے پر آئی ایم ایف کے تحفظات سامنے آگئے

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پیٹرول سبسڈی اور گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے معاملے پر حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان اہم امور پر اختلاف برقرار ہے، آئی ایم ایف نے ایندھن پر عمومی سبسڈی کے بجائے مستحق صارفین کو براہ راست ہدفی ریلیف دینے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان پیٹرول قیمتوں اور گیس کمپنیوں کے تقریباً 1.4 ٹریلین روپے کے قابل وصول واجبات سمیت توانائی شعبے کے بعض معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ مذاکرات کے دوران حکومت کی جانب سے موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے لیے فیول ریلیف اسکیم جاری رکھنے کے مؤقف پر بھی بات ہوئی۔
آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ ایندھن پر عمومی یا غیر ہدفی سبسڈی کے بجائے محدود اور مستحق صارفین تک براہ راست ریلیف پہنچایا جائے۔ حالیہ مذاکرات میں فنڈ نے وزیراعظم کی فیول سبسڈی کو بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ہدفی انداز میں فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے فیول ریلیف اسکیم فوری طور پر ختم کرنے کے حق میں نہیں، تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے اس اسکیم کی مدت اور مالی لاگت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ حکومت اور فنڈ کے درمیان اس معاملے پر مزید مشاورت متوقع ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے آئی ایم ایف کو پیٹرول کی قیمت کے حوالے سے تفصیلی لاگت کی بریک ڈاؤن بھی فراہم کی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق درآمدی پیٹرول کی بنیادی قیمت تقریباً 250 روپے فی لیٹر کے قریب ہے، جبکہ صارفین کو یہ تقریباً 390 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔ اس میں ٹیکسز، لیویز اور مختلف مارجنز شامل ہیں۔
تازہ ترین نظرثانی کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 390.66 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 399.34 روپے فی لیٹر ہے۔
مذاکرات میں گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ بھی ایک اہم موضوع ہے۔ ذرائع کے مطابق گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ تقریباً 3.6 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں اصل واجبات کے ساتھ سود اور تاخیر سے ادائیگی کے سرچارجز بھی شامل ہیں۔
حکومت نے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کو نمٹانے کے لیے مختلف تجاویز آئی ایم ایف کے سامنے رکھی ہیں۔ ان میں سوئی گیس کمپنیوں کے ٹیرف ڈیفرنس کلیمز کے ذریعے قرضے کو ایڈجسٹ کرنا اور سرکاری توانائی کمپنیوں کے اضافی منافع کو استعمال کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے اضافی منافع سے گیس سیکٹر کے واجبات نمٹانے کی تجویز پر بھی غور کیا جارہا ہے، تاہم آئی ایم ایف نے اس طریقہ کار کے مالی اثرات پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ صرف سرکاری کمپنیوں کے منافع کو استعمال کرکے گردشی قرضے کا مسئلہ حل کرنا طویل المدت بنیادوں پر مالی طور پر غیر جانبدار طریقہ نہیں ہوگا۔ فنڈ گیس سیکٹر کی قیمتوں، سبسڈی کے نظام اور وصولیوں میں بنیادی اصلاحات پر زور دے رہا ہے۔
مذاکرات کے دوران گیس صارفین کے لیے ہدفی سبسڈی کے نظام پر بھی غور کیا گیا۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ کم آمدنی والے صارفین کو عمومی طور پر کم گیس ٹیرف دینے کے بجائے براہ راست مالی معاونت فراہم کی جائے، تاہم اس کے لیے صارفین کے ڈیٹا، میٹر کی ملکیت اور گھروں کی درست شناخت سے متعلق مسائل موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گیس سیکٹر میں موجودہ ٹیرف کا ڈھانچہ بھی گردشی قرضے میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔ بعض گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمت لاگت سے کم رہتی ہے، جس کے نتیجے میں گیس کمپنیوں کے مالی خسارے اور واجبات میں اضافہ ہوتا ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان میں گیس چوری میں کمی اور گیس سیکٹر میں اصلاحات کی کوششوں کو بھی سراہا ہے، تاہم فنڈ کا کہنا ہے کہ گردشی قرضے کو مستقل بنیادوں پر کم کرنے کے لیے قیمتوں، وصولیوں اور سبسڈی کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔
اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب سے حالیہ عالمی تیل بحران کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی برقرار رکھنے اور بجٹ پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر قیمتوں کا انتظام کرنے کو بھی سراہا ہے۔
دونوں فریق آئندہ ہفتے توانائی شعبے سے متعلق باقی معاملات پر مزید تفصیلی مذاکرات کریں گے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کے لیے فیول ریلیف برقرار رکھتے ہوئے آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کی شرائط میں قابل عمل راستہ نکالا جائے، جبکہ فنڈ توانائی شعبے میں عمومی سبسڈی کے بجائے ہدفی مالی معاونت اور گردشی قرضے کے مستقل حل پر زور دے رہا ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موجودہ مذاکرات 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی پروگرام کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تیسرے جائزے کے سلسلے میں جاری ہیں۔ کامیاب پیش رفت کی صورت میں پاکستان کو دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی اگلی رقم ملنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert