سہیل آفریدی کے ہاتھ سے تینوں کارڈ نکل گئے، لانگ مارچ سے قبل بڑا دھچکا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کو یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ ان کا لانگ مارچ ہونا بھی نہیں ہے اور اگر ہو بھی گیا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
آزاد پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی نے کہا کہ سہیل آفریدی تین چیزیں کھو چکے ہیں، جن میں اسمبلی میں اپنی اکثریت، پارٹی میں اپنی اہمیت اور عوام میں اپنی افادیت شامل ہے، اب یہ چیزیں ان کے پاس نہیں رہیں۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی مارچ کریں یا نہ کریں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے مارچ کو پشاور سے کوہاٹ اور پھر کوہاٹ سے لکی مروت لے جایا گیا ہے۔
اختیار ولی نے مزید کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ شاید سہیل آفریدی افغانستان پہنچ کر کابل سے اپنا مارچ شروع کریں، جو پھر پاکستان کبھی نہیں پہنچے گا۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے بانی پی ٹی آئی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’خان صاحب اپنے کرموں کا ویٹ کر رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اب انہیں بھی معلوم ہوگیا ہے کہ وہ واپس آنے والے نہیں ہیں اور ’’ان تلوں میں تیل نہیں ہے‘‘۔
اختیار ولی نے دعویٰ کیا کہ اندر ملاقات کرکے آنے والے لوگ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ وہ اندر شدید غصے میں ہیں اور انتہائی مایوس ہیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کسی طریقے سے ایک طرف سے یا دوسری طرف سے باہر نکلنے اور کسی ڈیل کے ذریعے معاملہ طے ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔
انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی بڑی بہن علیمہ خان سے متعلق بھی گفتگو کی اور کہا کہ وہ ان سے بھی بہت غصے میں ہیں۔ اختیار ولی کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا خیال ہے کہ ان کے مسائل میں زیادہ تر اضافہ علیمہ خان کی جانب سے کی گئی ’’مس ہینڈلنگ‘‘ کے باعث ہوا۔
اختیار ولی نے 26 نومبر کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاں سے بات بننے کی کوئی امید پیدا ہوئی تھی، وہ موقع ضائع ہوا اور ان کے مطابق یہ موقع بشریٰ بی بی نے ضائع کیا۔ انہوں نے اس صورت حال کو محاورے کے انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’گھر کو آگ لگی اپنے ہی چراغ سے‘‘۔

WhatsApp
Get Alert