ٹیکسوں کی بھرمار اور زمینی حقائق کے برعکس نظام مسلط کرنے پر ڈاکٹرز برادری کا شدید اضطراب: پی ایم اے

پالیسی سازی اور انتظامی عہدوں پر غیر متعلقہ افراد کی تعیناتی نامنظور، ٹیکنیکل شعبے کے ساتھ ناانصافی ختم کی جائے


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے)بلوچستان اور کوئٹہ زون کی کابینہ کے ایک اعلی سطح وفد نے پی ایم اے بلوچستان کے صدر ڈاکٹر نعیم زرکون کی قیادت میں نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر، سابق وزیرِ اعلی بلوچستان اور رکنِ صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے ملاقات کی۔ وفد میں جنرل سیکرٹری ڈاکٹر زرک محمد شاہی، جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر احمد عباس، ترجمان ڈاکٹر عبداللہ وردگ، فائنانس سیکریٹری ڈاکٹر طارق بلوچ، کوئٹہ زون کے صدر ڈاکٹر نادر اچکزئی، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شعیب بلوچ اور نائب صدر ڈاکٹر کامیار شامل تھے۔ملاقات کے دوران بنیادی طور پر تین اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وفد نے ایف بی آر اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے)کی جانب سے ڈاکٹروں پر عائد ٹیکسوں سے پیدا ہونے والی مشکلات سے آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ اے آئی اٹینڈنس کے حوالے سے مقف اپنایا گیا کہ پی ایم اے غیر حاضری کے سخت خلاف ہے اور ہر ڈاکٹر کو ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں، تاہم موجودہ طریقہ کار بلوچستان کے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا جس سے باقاعدگی سے فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ وفد نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ صحت کا شعبہ تکنیکی نوعیت کا ہے، اس لیے صحت سے متعلق پالیسی سازی اور تمام انتظامی عہدوں پر ڈاکٹروں کو تعینات کیا جائے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وفد کے موقف کو توجہ سے سنتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن مثبت کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس پر پی ایم اے نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

WhatsApp
Get Alert