اسرائیل جانے والا طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش، متحدہ عرب امارات نے دہشتگردی قرار دیدیا

دبئی (قدرت روزنامہ)دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کو معاون پائلٹ نے ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تھی جسے سینیئر پائلٹ کی بہادری اور عملے کی بروقت مداخلت سے ناکام بنادیا گیا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فضائی کمپنی کی پرواز کو مبینہ طور پر تباہ کرنے کی کوشش کو پہلی بار کھلے الفاظ میں دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں بھارتی پائلٹ سمت مچھر کی بہادری کو سراہا جس نے معاون پائلٹ کے چاقو حملے میں شدید زخمی ہونے کے باوجود جہاز کو گرنے سے بچایا۔
فلائی دبی کے بھارتی نژاد پائلٹ کے سر سے خون بہہ رہا تھا لیکن انھوں نے طیارے کا کنٹرول حملہ آور معاون پائلٹ کے حوالے نہیں کیا اور شدید زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا۔
کاک پٹ کا دروازہ کھلتے ہی مسافر اور عملے کے ارکان داخل ہوگئے جنھوں نے حملہ آور معاون پائلٹ کو قابو کرلیا اور عملے میں شامل دیگر دو پائلٹس نے طیارے کو ہنگامی طور پر بحفاظت سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر اتارا۔
خیال رہے کہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی اس پرواز میں 174 افراد سوار تھے جو تمام اسرائیلی شہری تھے اور حملہ آور معاون پائلٹ طیارے کا کنٹرول لیکر اسے زمین پر گرانا چاہتا تھا۔
تبوک ایئرپورٹ پر سعودی حکام نے حملہ آور معاون پائلٹ کو حراست میں لے لیا جسے ااج ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات بھیجا جائے گا جہاں اماراتی سیکیورٹی حکام اور اسرائیلی حکام بھی تفتیش کریں گے۔
سعودی عرب کی ملزم سے کی گئی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ آور معاون پائلٹ کا تعلق عمان سے ہے اور وہ دہری شہریت رکھتا ہے اس لیے اسرائیل میں داخل ہونے کے لیے ویزا مل گیا۔ اس نے فلائی دبئی 8 ماہ قبل جوائن کی تھی۔
تاحال عمانی نژاد معاون پائلٹ کا نام اور مکمل شناخت ظاہر نہیں کی ہے تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے بتایا کہ وہ سخت گیر اسلامی نطریات کا حامل ہے اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر یہودیوں سے نفرت واضح ہے۔
واضح رہے کہ اس حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے امکان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے خارج از امکان قرار نہیں دیا اور دھمکی دی ہے اگر ایسا ہوا تو ایران پر بھرپور حملہ کریں گے۔
