سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی عمل موجود ہے، حکومت سیاسی لوگوں سے مذاکرات کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، تاہم بے گناہوں کا خون بہانے اور ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو سمجھنے کے لیے اس کی تاریخ، جغرافیہ، سماجی ساخت، سیاسی ارتقا اور موجودہ زمینی حقائق کو ایک مربوط تناظر میں دیکھنا ہوگا، محض مخصوص واقعات یا یک طرفہ بیانیے کی بنیاد پر صوبے کے ماضی اور حال کو سمجھنا ممکن نہیں، بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل مؤثر گورننس، میرٹوکریسی کے فروغ، سیاسی شمولیت، نوجوانوں کے لیے مواقع، معاشی ترقی اور ریاستی رٹ کے مؤثر نفاذ سے جڑا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (IPRI) کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں ’ خصوصی لیکچر کے دوران کیا، جہاں انہیں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کا خطہ ہزاروں سال پرانی تہذیبی تاریخ رکھتا ہے اور مہرگڑھ اس کی قدیم تہذیبی اہمیت کا نمایاں ثبوت ہے۔مختلف ادوار میں یہاں مقامی معاشروں، قبائلی نظام، خانیت قلات، برطانوی دور اور بعد ازاں پاکستان کے سیاسی و انتظامی نظام سمیت مختلف حکومتی و سیاسی ڈھانچے تشکیل پاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ کے مختلف ادوار کو ان کے مخصوص سیاسی، سماجی اور علاقائی حالات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
تاریخی معاملات پر رائے قائم کرتے وقت اصل ماخذ اور مستند دستاویزی ریکارڈ و مصدقہ حوالہ جات سے رجوع کیا جانا چاہیے، بالخصوص بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق سمیت اہم تاریخی معاملات کو جذباتی یا یک طرفہ بیانیے کے بجائے تاریخی شواہد کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے کے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے پسماندگی کو واحد سبب قرار دینا درست نہیں۔ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں ترقیاتی تفاوت موجود ہے تاہم کسی بھی علاقے کی محرومی یا پسماندگی کو تشدد اور معصوم شہریوں کے قتل کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ حقائق اور تصورات میں فرق کو سمجھنا اور موجودہ صورتحال کا تجزیہ زمینی حقائق کی بنیاد پر کرنا ضروری ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست اور نوجوانوں کے درمیان خلیج کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اس مقصد کے لیے حکومت ہر سطح پر نوجوانوں کو سن رہی ہے اور ان کے مسائل کو پالیسی سازی کا حصہ بنانے کے لئے سنجیدہ کوششیں کررہی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے عوامی خدمات کے شعبوں میں اسی مقصد کے تحت متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اے آئی بیسڈ سو فیصد میرٹ پر بھرتیاں، ہزاروں غیر فعال اسکولوں کی بحالی، آؤٹ آف اسکول بچوں کی واپسی، نئے اسکولوں اور کلاس رومز کا قیام، کنٹریکٹ کے تحت میرٹ پر 17 ہزار کے لگ بھگ اساتذہ کی بھرتی، صحت کی سہولیات میں توسیع اور خواتین و نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور ریاستی اداروں پر اعتماد مضبوط کرنا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ امن اور ترقی لازم و ملزوم ہیں۔ امن و امان کے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے، جدید پولیسنگ، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، مؤثر پراسیکیوشن اور اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری پر ریاست کی پوری توجہ ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ بلوچستان میں ایسا ماحول بھی پیدا کررہے ہیں جہاں نوجوان تشدد کے بجائے تعلیم، روزگار اور تعمیری سرگرمیوں کو اپنے مستقبل کا راستہ بنائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی عمل موجود ہے اور حکومت سیاسی لوگوں سے مذاکرات کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، تاہم ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔
ریاست کی رٹ اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، جبکہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی اختلاف اور مسائل کے حل کے تمام جمہوری راستے کھلے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبے کے مسائل پر قومی سطح کی بحث تحقیق اور تاریخی شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے تاکہ حقائق کو تصورات سے الگ کرکے پالیسی سازی کو زمینی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کا پائیدار راستہ آئین، جمہوری سیاست، مؤثر گورننس، تعلیم، معاشی مواقع اور امن و امان کے باہمی امتزاج میں ہے۔ ماضی کو درست طور پر سمجھتے ہوئے حال کے چیلنجز کا حقیقت پسندانہ جائزہ اور مستقبل کے لیے مشترکہ حکمت عملی ہی بلوچستان کو امن، استحکام اور ترقی کی جانب آگے لے جاسکتی ہے۔ جس کے لئے ہم کوشاں ہیں
