غیر آئینی مداخلت اور عوام کے حقِ حکمرانی سے انکار ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے زہرِ قاتل : پشتونخوا نیپ
وسائل سے مالامال پشتونخوا وطن کے عوام بنیادی حقوق سے محروم، آمریت و ریاستی جبر کا ہر دور میں مقابلہ کیا: پارٹی بیان

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ): پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 1983ء کے شہدائے جمہوریت اسلم اولسیار شہید، کاکا محمود شہید، داؤد شہید اور رمضان شہید کی 43ویں برسی اور 11 اکتوبر 1991ء کے شہدائے وطن عبدالرحیم کلیوال شہید، صابر شاہ شہید، صاحب خان شہید، باز محمد باز شہید اور حبیب الرحمن شہید کی برسی کے مواقع پر پارٹی کے زیرِ اہتمام مختلف اضلاع میں تعزیتی جلسے، اجتماعات اور سیمینار منعقد کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں 7 اکتوبر کو لورالائی میں جلسۂ عام، جبکہ 11 اکتوبر کو کوئٹہ، نواں کلی علاقائی کانفرنس کے کھلے اجلاس میں مرکزی تعزیتی اجتماع بہ یادِ شہدائے جمہوریت و شہدائے وطن منعقد ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 1983 کا دن ملک کی جمہوری تاریخ میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔ جنرل ضیا الحق کی فوجی آمریت کے بدترین دور میں جب ملک میں آئینی و جمہوری اداروں کو معطل، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد اور عوام کے بنیادی سیاسی حقوق سلب کیے گئے تھے، اس وقت جمہوریت پسند سیاسی کارکنوں نے آمریت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا۔ شہدائے جمہوریت نے “جمہوریت زندہ باد، آمریت مردہ باد” کے نعرے بلند کرتے ہوئے جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقِ حکمرانی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔بیان میں کہا گیا کہ ان شہدا نے ثابت کیا کہ جمہوری حقوق اور قومی آزادی محض نعروں سے حاصل نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے سیاسی جدوجہد، ثابت قدمی اور قربانی درکار ہوتی ہے۔ شہدائے جمہوریت نے آمریت کے جبر، تشدد اور ریاستی دباؤ کے باوجود اپنے سیاسی نظریے اور جمہوری مؤقف سے دستبرداری اختیار نہیں کی اور تاریخ میں اپنے خون سے ایسا باب رقم کیا جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔پارٹی بیان میں کہا گیا کہ 11 اکتوبر 1991 کے شہدائے وطن نے بھی پشتونخوا وطن کے قومی، سیاسی اور جمہوری حقوق کے دفاع کی جدوجہد میں اپنی جانیں قربان کیں۔ ان شہدا کی قربانیاں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ اپنے وطن، قومی تشخص، وسائل اور عوام کے بنیادی حقوق کے دفاع کی جدوجہد ایک مسلسل تاریخی عمل ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پشتونخوا وطن قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود اس کے عوام کو اپنے وسائل، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات پر وہ اختیار حاصل نہیں جو ایک جمہوری وفاق میں قومی وحدتوں اور ان کے عوام کا بنیادی حق ہے۔ شہدا کی جدوجہد ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اپنے قومی حقوق اور وسائل کے تحفظ کے لیے آئینی، جمہوری اور سیاسی جدوجہد کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ آمریت، غیر آئینی مداخلت، عوام کے حقِ حکمرانی سے انکار اور سیاسی قوتوں کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔ ملک میں حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوگی جب آئین کی بالادستی، پارلیمان کی خودمختاری، آزاد سیاسی سرگرمی، شفاف انتخابات، عدلیہ کی آزادی اور عوام کے ووٹ کے تقدس کو یقینی بنایا جائے گا۔بیان میں کہا گیا کہ شہدائے جمہوریت اور شہدائے وطن کی قربانیوں کو صرف برسیوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی یاد منانے کا اصل مقصد ان کے جمہوری، قومی اور عوام دوست سیاسی نظریات کو نئی نسل تک منتقل کرنا اور ان اصولوں کے لیے پرامن اور جمہوری جدوجہد کو جاری رکھنا ہے جن کے لیے انہوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔پشتونخوانیپ نے تمام عوام، سیاسی کارکنوں، جمہوریت پسندوں، وکلا، طلبہ، نوجوانوں اور خواتین سے اپیل کی ہے کہ 7 اکتوبر کو لورالائی کے جلسۂ عام، 11 اکتوبر کو کوئٹہ کے مرکزی تعزیتی اجتماع اور دیگر اضلاع میں منعقد ہونے والے تعزیتی اجتماعات میں بھرپور شرکت کرکے شہدائے جمہوریت اور شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کریں۔ اور اس عزم کی تجدید کریں کہ آئین کی بالادستی، جمہوریت، قومی حقوق، عوام کے حقِ حکمرانی اور پشتونخوا وطن کے وسائل پر اس کے عوام کے اختیار کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
