عدالت میں مقتول کی اے آئی ویڈیو چلانا اہل خانہ کو مہنگا پڑگیا؛ قاتل کو ریلیف

امریکہ (قدرت روزنامہ)امریکی ریاست ایریزونا کی اپیل عدالت نے روڈ ریج کے دوران ایک شخص کو قتل کرنے والے مجرم کی 10 سال سے زائد قید کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ سزا سنانے کا حکم دے دیا۔
یہ واقعہ نومبر 2021 میں ایریزونا کے شہر چینڈلر میں پیش آیا، جہاں 37 سالہ کرسٹوفر پیلکی اور گیبریئل پال ہورکاسیٹس کے درمیان سڑک پر تلخ کلامی ہوئی۔
حکام کے مطابق پیلکی اپنی گاڑی سے اتر کر ہورکاسیٹس کی گاڑی کی طرف گیا جس پر ہورکاسیٹس نے فائرنگ کردی۔ موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ ایک گولی ایک دوسری گاڑی کو بھی لگی۔
ہورکاسیٹس نے عدالت میں اپنے دفاع کا مؤقف اختیار کیا، تاہم اسے قتلِ غیر ارادی اور خطرے میں ڈالنے کے جرم میں مئی 2025 کو تقریباً ساڑھے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
مقتول کی AI ویڈیو کیسے تیار ہوئی؟
سزا سنائے جانے سے قبل پیلکی کے اہل خانہ اور دوستوں نے عدالت میں اپنے بیانات دیے۔ پیلکی کی بہن اسٹیسی ویلز نے ایک غیر معمولی طریقہ اختیار کیا۔
اس نے پیلکی کی تصاویر، سابقہ ویڈیوز اور آواز سے متعلق مواد استعمال کرکے AI کے ذریعے ویڈیو تیار کی۔ ویڈیو میں پیلکی نے اپنے قاتل ہورکاسیٹس کو مخاطب کیا اور معافی کا پیغام دیا۔
ویڈیو میں اس کی جانب سے کہا گیا کہ افسوس ہے کہ دونوں کی ملاقات ایسے حالات میں ہوئی، جبکہ کسی اور زندگی میں شاید وہ دوست بن سکتے تھے۔ اس AI کردار نے معافی اور خدا کی بخشش پر یقین کا بھی اظہار کیا۔
پیلکی کی بہن کے مطابق ان کا مقصد اپنے مقتول بھائی کو ایک آواز دینا اور جج کو یہ بتانا تھا کہ پیلکی کی زندگی اور اس کی موت نے خاندان اور دوستوں پر کیا اثر ڈالا۔
جج بھی ویڈیو سے متاثر ہوئے
ویڈیو عدالت میں چلنے کے بعد جج ٹوڈ لینگ نے اس پر مثبت ردعمل ظاہر کیا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق جج نے ویڈیو کو ’’حقیقی‘‘ قرار دیتے ہوئے مقتول کی طرف سے ظاہر کی گئی معافی کا ذکر کیا۔
اس جذباتی اے آئی ویڈیو نے عدالت کی ہمدردی حاصل کی اور قاتل ہورکاسیٹس کو ساڑھے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی جو استغاثہ کی مانگی گئی سزا سے زیادہ تھی۔
جس پر قاتل کے اہل خانہ نے اپیل کورٹ سے رجوع کیا، اپیل میں مؤقف اختیار کیا کہ ویڈیو ناقابلِ اعتبار تھی اور اس نے مقتول کو اس انداز میں پیش کیا جیسے وہ خود عدالت سے بات کر رہا ہو حالانکہ ویڈیو میں موجود خیالات دراصل اس کی بہن کے تصور اور تحریر پر مبنی تھے۔
اپیل عدالت کا اہم فیصلہ
ایریزونا کورٹ آف اپیلز نے فیصلہ سناتے ہوئے ہورکاسیٹس کو مجرم قرار دیے جانا برقرار رکھا لیکن 10 سالہ قید کی سزا کو ختم کرتے ہوئے دوبارہ سزا کی مدت کے تعین کا حکم دیا۔
تین رکنی عدالتی پینل نے قرار دیا کہ حقیقی تصاویر یا مقتول کی اصل ویڈیوز عدالت میں پیش کرنا الگ معاملہ ہے لیکن AI کے ذریعے مقتول کے ایسے خیالات تخلیق کرکے انہیں اس کی اپنی آواز اور شکل میں پیش کرنا ایک مختلف نوعیت کا معاملہ ہے۔
عدالت کے مطابق AI ویڈیو نے مقتول کے خاندان کے تصور اور مقتول کے حقیقی خیالات کے درمیان موجود فرق ختم کردیا۔ جج کے ویڈیو سے متاثر ہونے کی وجہ سے عدالت نے سزا سنانے کے عمل کو بنیادی طور پر غیر منصفانہ قرار دیا۔
تاہم عدالت نے ہورکاسیٹس کو بری نہیں کیا۔ اس کی مجرمانہ سزا برقرار ہے، صرف سزا کی مدت ختم کرکے کیس کو نئی سزا کے لیے ماتحت عدالت میں واپس بھیجا گیا ہے۔ نئی سزا کی تاریخ ابھی مقرر نہیں ہوئی۔
