میں نے عمران خان کو کہا تھا کہ سر! مجھے بتائیں آپ نے آرمی چیف لگنا ہے یا وزیراعظم بننا ہے، ہماری اسٹیبلشمنٹ سے کیا لڑائی ہے؟ فواد چوہدری


پشاور(قدرت روزنامہ) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ میں نے عمران خان کو کہا تھا کہ سر! مجھے بتائیں ہماری اسٹیبلشمنٹ سے کیا لڑائی ہے؟ کیا عدم اعتماد اسٹیبلشمنٹ یا عاصم منیر لے کر آئے ہیں تو ان کا جواب نہیں تھا۔ انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے عمران خان کو کہا تھا کہ سرمجھے یہ بتائیں آپ نے آرمی چیف لگنا ہے یا وزیراعظم بننا ہے، ہماری اس اسٹیبلشمنٹ سے کیا لڑائی ہے؟ کیا ہمارے خلاف تحریک عدم اعتماد اسٹیبلشمنٹ لے کر آئے تو ان کا جواب نہیں تھا۔
کیا جنرل عاصم منیر تحریک عدم اعتماد لے کر آئے؟

کیا ڈی جی آئی اس میں تھے ان کاجواب نہیں تھا۔
تو تحریک عدم اعتماد ہمارے خلاف محمود اچکزئی، اختر مینگل، محمد زبیر اور پی ٹی ایم والے لے کر آئے تھے۔ لیکن ان کے ساتھ ہمارے اعتماد کا عالم یہ ہے کہ فیصلہ سازی کا سارا اختیارہی ان کو دے دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ ابھی پی ٹی آئی کی ضرورت نہیں ہے ۔
اسی لئے پی ٹی آئی کو آؤٹ سورس کردیا ہے۔اسی طرح فواد چوہدری نے اپنے ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پنجاب سے چونتیس ہزار لوگ عمران خان کیلئے جیل گئے آج بھی جیلوں میں نوے فیصد لاہور اور پنجاب کے لوگ ہیں، پنجابیوں پر جوظلم اور تشدد کے پہاڑ توڑے گئے وہ کسی اور نے نہیں سہا ، سینکڑوں روپوش ہیں اس کو بھی دیکھیں،اب یہ توقع کرنا کہ لوگ اسلحہ لے کر مقابلے پر آجائیں یہ تو عجیب توقع ہے۔
فواد چوہدری نے اپنے ایک مزید ٹویٹ میں کہا کہ فارم 47 کی شہباز حکومت کے تین سالوں میں نخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کی شرح تین گنا بڑھی ہے ! پٹرولیم اور تنخواہ اس حکومت کے نشانے پر ہیں، کسان اور صنعت کار کے پاس کچھ بچا ہی نہیں انھوں نے کیا دینا ہے!

WhatsApp
Get Alert