حکمرانوں کی غلط خارجہ و سیکیورٹی پالیسیوں نے پشتونخوا وطن کو خون میں نہلا دیا، مائنز منرل ایکٹ کے ذریعے وسائل پر قبضے کی راہ ہموار کی گئی: نصراللہ زیرے

نام نہاد وفاقی جماعتوں نے اقتدار کی خاطر اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتے کیے، عوام کے منتخب نمائندوں کے بجائے طاقت کے مراکز کو فیصلے سونپنا وفاقی نظام کی نفی ہے


افغانستان کو پانچواں صوبہ بنانے کی سازش کے تحت دہشت گردی پروان چڑھائی گئی، ہنہ اورک، زیارت، ہرنائی اور شاہرگ کے واقعات کا مقصد معدنیات لوٹنا ہے
لورالائی میں طویل لوڈشیڈنگ، کمیشن خوری اور کرپشن عروج پر، زمینداری تباہ، مسلط کردہ حکومت کے خلاف عوام کو منظم مزاحمت کرنا ہوگی
لورالائی (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام 7 اکتوبر 1983ء کے شہدائے جمہوریت اسلم اولس یار شہید، کاکا محمود شہید، داؤد شہید اور رمضان شہید کی شہادت کی 43ویں برسی اور 11 اکتوبر 1991ء کے شہدائے وطن عبدالرحیم کلیوال شہید، صابر شاہ شہید، صاحب خان شہید، باز محمد باز شہید اور حبیب الرحمن شہید کی شہادت کی 35ویں برسی کے موقع پر پشتونستان چوک لورالائی میں ایک جلسہ عام صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ جلسے سے پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سید اکبر خان، ضلعی سیکرٹری مصطفیٰ کمال، پی ایس او کے صوبائی سیکرٹری وارث افغان، وزیر خان ناصر، مولوی اختر محمد اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا، جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض نعمت چلازئی نے انجام دیے اور تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاجی واحد زخپیل نے حاصل کی۔صوبائی صدرنصر اللہ زیرے نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہدائے جمہوریت اور شہدائے وطن نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے پشتون قومی تحریک اور جمہوری جدوجہد کو نئی قوت اور توانائی دی۔ ان شہداء نے اپنے خون سے اس وطن کی حفاظت، جمہوریت کی بحالی اور قوم کے قومی، سیاسی، معاشی اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی ایک روشن تاریخ رقم کی۔ ان کی قربانیاں ہماری قومی سیاسی جدوجہد کا ناقابلِ فراموش سرمایہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اپنے قومی سیاسی اکابرین اور شہداء کے نظریات و افکار کی وارث جماعت ہے اور ان کے متعین کردہ راستے پر چلتے ہوئے آج بھی آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، حقیقی جمہوریت، صوبائی خودمختاری اور پشتونخوا وطن کے قومی حقوق کے لیے سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔نصراللہ خان زیرے نے کہا کہ ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عوام نے اپنے حقِ حکمرانی، جمہوریت اور آئین کی بالادستی کا مطالبہ کیا، غیر جمہوری قوتوں نے عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارا۔ بار بار مارشل لا مسلط کیے گئے، آئین کو معطل کیا گیا اور پارلیمنٹ کے اختیار کو کمزور کیا گیا۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ہر دور میں آمریت اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف جمہوری مزاحمت کی اور عوام کے حقِ حکمرانی کے لیے جدوجہد کی۔انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ملک کی نام نہاد وفاقی سیاسی جماعتوں نے بھی بارہا اپنے وقتی اقتدار اور مفادات کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتے کیے، جس کے نتیجے میں ملک میں جمہوری ادارے کمزور اور غیر جمہوری قوتیں مضبوط ہوتی رہیں۔ آج بھی عوام کے منتخب نمائندوں اور پارلیمنٹ کے بجائے طاقت کے مراکز کو فیصلہ سازی کا اختیار دینا جمہوریت اور وفاقی نظام کی نفی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت ایک ایسے بحران سے گزر رہا ہے جہاں آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، آزادانہ انتخابات، قوموں کے حقوق اور عوام کے حقِ حکمرانی کو مسلسل محدود کیا جارہا ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی جماعتوں اور جمہوری قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر آئین، جمہوریت اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہوں۔مقررین نے کہا کہ پشتونخوا وطن کے وسائل پر یہاں کے عوام کا حق تسلیم کیا جائے، قومی وحدت، قومی تشخص اور سیاسی اختیار کو تسلیم کیا جائے اور پشتونخوا وطن کو اس کے تاریخی، جغرافیائی اور قومی وحدت کی بنیاد پر ایک بااختیار وفاقی اکائی کی حیثیت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کی لوٹ مار، جبری پالیسیاں، سیاسی انجینئرنگ اور عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہدائے جمہوریت اور شہدائے وطن نے جس مقصد کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، وہ مقصد محض اقتدار کا حصول نہیں بلکہ ایک ایسا جمہوری، آئینی اور وفاقی پاکستان تھا جہاں تمام قوموں کو برابری کا حق حاصل ہو، عوام اپنے نمائندے آزادانہ طور پر منتخب کریں اور ریاستی ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیں۔اس سے قبل پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ سے ایک بڑا جلوس نکالا گیا، جس میں پارٹی کارکنوں اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جلوس کے شرکائ￿ مختلف شاہراہوں سے گزرتے ہوئے پشتونستان چوک پہنچے۔ شرکائ￿ نے ’’ملی شہید زندہ باد‘‘، ’’شہدائے جمہوریت زندہ باد‘‘، ’’شہدائے وطن زندہ باد‘‘، ’’پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی زندہ باد‘‘ اور ’’مسلط کردہ صوبائی و مرکزی حکومت مردہ باد‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ملک کے استعماری حکمرانوں کی غلط خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کے باعث پشتونخوا وطن اس وقت بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے اپنے مخصوص سیاسی و تزویراتی مقاصد کے لیے دہشت گردی کو پروان چڑھایا اور افغانستان کو اپنا پانچواں صوبہ بنانے کی پالیسی کے تحت ایسے عناصر کو پشتونخوا وطن میں لایا گیا، جس کا خمیازہ آج پشتون قوم بھگت رہی ہے۔مقررین نے کہا کہ مصنوعی طور پر مسلط کی گئی دہشت گردی نے پشتونخوا وطن کو لہولہان کردیا ہے اور اس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ لقم? اجل بن چکے ہیں۔ آج بھی پشتونخوا وطن، بالخصوص جنوبی پشتونخوا کے مختلف علاقوں ہنہ اورک، زیارت، ہرنائی، شاہرگ، سرانان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے بدترین واقعات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات کا ایک اہم مقصد پشتونخوا وطن کے قیمتی وسائل، معدنیات اور قدرتی ذخائر پر قبضہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد مائنز منرل ایکٹ پاس کرکے حکمرانوں نے پشتونخوا وطن کے قومی وسائل پر قبضے کی راہ ہموار کی ہے اور اس اقدام کے ذریعے بدترین قومی ناانصافی اور قومی غداری کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ عوام حکمرانوں سے اس کا حساب ضرور لیں گے اور اپنے قومی وسائل کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔مقررین نے کہا کہ لورالائی شہر سمیت پورا علاقہ سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ بجلی کی شدید قلت اور طویل لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے، کرپشن اور کمیشن خوری عروج پر ہے، زمینداری تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، جبکہ تعلیمی نظام بھی بدعنوانی اور نااہلی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بجائے حکمران طبقہ اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے۔مقررین نے شہدائے جمہوریت اور شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بالخصوص ملی شہید عثمان خان کاکڑ محکوم اقوام، جمہوریت، قومی حقوق اور مظلوم عوام کے لیے ایک توانا آواز تھے۔ ان کی آواز کو خاموش کرکے بھی ان کے نظریات اور قومی جدوجہد کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ شہدائ￿ کی قربانیاں قومی سیاسی جدوجہد کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پشتون قوم کو متحد اور منظم ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی۔ تمام سیاسی قوتوں کو اپنے قومی اور جمہوری مفادات کے تحفظ کے لیے ایک ملی جمہوری اتحاد تشکیل دے کر آگے بڑھنا ہوگا تاکہ پشتونخوا وطن کے وسائل، حقوق، امن، جمہوریت اور قومی اختیار کے لیے مؤثر جدوجہد کی جاسکے۔مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہدائے جمہوریت اور شہدائے وطن کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور ان کے قومی، جمہوری اور سیاسی نظریات کو آگے بڑھاتے ہوئے پشتونخوا وطن کے عوام کے حقوق کے حصول، حقیقی جمہوریت، آئین کی بالادستی اور قوموں کی برابری پر مبنی وفاقی نظام کے قیام تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔جلسہ عام کے اختتام پر درجنوں افراد نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پارٹی رہنماؤں نے نئے شامل ہونے والے ساتھیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت سے قومی جمہوری جدوجہد مزید مضبوط ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert