وزیر اعلیٰ پنجاب کا مری کی طالبات کے لیے شاندار تحفہ، کوہسار یونیورسٹی کو 2 ’پنک بسیں‘ فراہم کر دی گئیں

لاہور(قدرت روزنامہ)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مری کی کوہسار یونیورسٹی کی طالبات کو محفوظ اور باقاعدہ سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے 2 ’پنک بسیں‘ دے دی ہیں۔ اس بروقت اور اہم اقدام سے پہاڑی اور دشوار گزار راستوں پر طالبات کے لیے تعلیمی اداروں تک رسائی انتہائی سہل اور محفوظ ہو گئی ہے۔
مری کے پیچیدہ، ناہموار اور دشوار گزار پہاڑی راستوں کی وجہ سے کوہسار یونیورسٹی تک روزانہ کا سفر طالبات کے لیے ایک طویل عرصے سے سنگین مسئلہ بنا ہوا تھا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور غیر محفوظ ذرائع آمدورفت کی بدولت ان کا تعلیمی سفر شدید مشکلات کا شکار تھا۔
تاہم حکومت کی جانب سے 2 ’پنک بسوں‘ کی فراہمی نے اب اس کٹھن مسافت کو نہ صرف آسان بنا دیا ہے بلکہ طالبات کے روزمرہ سفر اور تحفظ کو بھی سو فیصد یقینی بنایا ہے۔
وائس چانسلر کا اظہارِ تشکر
حکومتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کوہسار یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رافعہ ممتاز نے وزیر اعلیٰ پنجاب کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’پنک بسوں‘ کی فراہمی طالبات کی فلاح و بہبود اور تعلیمی ترقی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے، جس کے دوررس اور مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
مری میں خواتین کی تعلیم اور سفری رکاوٹیں
پہاڑی علاقوں میں نظامِ زندگی میدانی علاقوں کی نسبت یکسر مختلف اور کٹھن ہوتا ہے۔ مری اور اس کے مضافات میں تعلیمی اداروں کا فاصلہ اور ٹرانسپورٹ کا فقدان وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کے باعث کئی طالبات کو اعلیٰ تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑتی تھی۔
والدین کے لیے اپنی بیٹیوں کو غیر محفوظ اور بے قاعدہ لوکل ٹرانسپورٹ میں بھیجنا ایک مستقل ذہنی اذیت تھا۔ اس تناظر میں، کوہسار یونیورسٹی کی طالبات کے لیے مخصوص ٹرانسپورٹ کا یہ منصوبہ ان کی دیرینہ اور بنیادی ضرورت کی تکمیل ہے۔
تعلیمی اور سماجی اثرات کا جائزہ
خواتین کی تعلیم اور انہیں بااختیار بنانے کے عمل میں محفوظ اور باقاعدہ سفری ذرائع ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مری کی طالبات کے لیے یہ ’پنک بسیں‘ محض ایک ٹرانسپورٹ کی سہولت سے کہیں بڑھ کر ہیں۔
یہ اقدام اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جب ریاست بچیوں کی تعلیم کی راہ میں حائل جغرافیائی رکاوٹوں کو دور کرتی ہے، تو ان کی کارکردگی، اعتماد اور سماجی شمولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔
یہ بسیں ان طالبات کے لیے ایک نئی امید اور روشن مستقبل کی علامت بن کر ابھری ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی سفر بلاتعطل جاری رہے گا بلکہ پہاڑی علاقوں میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے رجحان میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
