سرکاری افسران ہوشیار! اثاثوں اور آمدن کی تفصیلات آن لائن جمع کرانا لازمی

کراچی(قدرت روزنامہ) سرکاری افسران کے اثاثوں کی چھان بین مزید سخت کرتے ہوئے اثاثوں اور آمدن کی تفصیلات آن لائن جمع کرانا لازمی قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق سرکاری افسران کے اثاثوں اور آمدن کی تفصیلات جمع کرانے کا پرانا دستی نظام ختم کردیا گیا، اب افسران اپنی آمدن اور اثاثوں کی تفصیلات ایف بی آر کے آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔
وفاقی حکومت کے فیصلے پر آئی جی سندھ نے بھی سندھ پولیس میں عمل درآمد کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔
سندھ پولیس کے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو مالی سال 2025-26 کے اثاثوں کی تفصیلات 30 اکتوبر تک جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
احکامات میں کہا گیا کہ افسران کو اپنی آمدن، بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور سرمایہ کاری کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی، جبکہ شریک حیات کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کی تفصیلات بھی ظاہر کرنا لازمی ہوگا۔
افسران کو گاڑیوں، شیئرز، پرائز بانڈز، دیگر قیمتی اثاثوں اور ملکی و غیر ملکی بینک اکاؤنٹس کی معلومات بھی جمع کرانا ہوں گی۔
اس کے علاوہ آمدن کے ذرائع، اہل خانہ کی آمدن، بچوں کی تعلیم اور تعلیمی اخراجات کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
حکام کے مطابق بجلی اور گیس سمیت یوٹیلیٹی بلز، نجی غیر ملکی دوروں کے اخراجات، بینک قرضوں اور دیگر واجبات کی تفصیلات بھی ظاہر کرنا ہوں گی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں اثاثوں کی مالیت میں ہونے والی تبدیلی کی وضاحت بھی دینا ہوگی۔
سرکاری افسران سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، غیر ملکی شہریت یا مستقل رہائش سے متعلق معلومات بھی طلب کی گئی ہیں۔
احکامات میں واضح کیا گیا ہے کہ اثاثوں کی تفصیلات میں غلط بیانی، معلومات چھپانے یا مقررہ مدت میں تفصیلات جمع نہ کرانے پر متعلقہ افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
وفاقی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 16 ستمبر کو اثاثوں کی ڈیجیٹل تفصیلات جمع کرانے سے متعلق مراسلہ جاری کیا تھا، جس کے بعد سندھ حکومت نے 25 ستمبر کو وفاقی ہدایات متعلقہ محکموں کو ارسال کیں، جبکہ سندھ پولیس نے 6 اکتوبر کو افسران کو ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کا حکم دیا۔
