خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی صورتحال صرف ایک صورت میں تبدیل ہوسکتی ہے، رانا ثناءاللہ

اگر پی ٹی آئی اور سہیل آفریدی عزم کری کہ وہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں وفاقی حکومت اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں، سینیٹر رانا ثناءاللہ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی صورتحال صرف ایک صورت میں تبدیل ہوسکتی ہے، رانا ثناءاللہ
اگر پی ٹی آئی اور سہیل آفریدی عزم کری کہ وہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں وفاقی حکومت اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے جیو نیو زکے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا اسلام آباد کی طرف آنا یا نہ آنا میرا نہیں خیال کہ کوئی بنیادی وجہ رکھتا ہے۔
وہ اسلام آبا آئیں یا نہیں آئیں ، یا پھر لانگ مارچ کو اسی طرح جاری رکھتے ہوئے اپنی کمٹمنٹ کے اوپر آئیں، دونوں صورتوں میں بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ اگر پی ٹی آئی لیڈرشپ اور سہیل آفریدی آج یہ بات کہہ دیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس میں ہم ہر طرح سے وفاقی حکومت اور اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں،یہ بات ایمرجنسی کی صورتحال کو تبدیل کرسکتی ہے۔
لیکن اگر وہ اس پر متفق نہیں ہوتے تو پھر بے شک لانگ مارچ کو اسلام آباد تک رکھیں یا پیچھے رکھیں، اس سے فرق نہیں پڑے گا۔ دوسری جانب وزیراعلی خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کے لیے لائحہ عمل کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ 11 اکتوبر کو پورے پاکستان سے قافلے صوابی انٹرچینج پہنچیں گے۔ انہوں نے لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو ہمیں طالبان یا دہشتگردوں کے ساتھ منسلک کررہے ہیں، تو یاد رکھیں! 1994میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی ، نصیراللہ بابر ان کا وزیرداخلہ تھا، وہ طالبان کو ’مائی بوائز‘ کہتا تھا، اس وقت پی ٹی آئی نہیں تھی اور تحریک انصاف کی حکومت بھی نہیں تھی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کا پلان دینے جارہا ہوں، اس پلان کو انہوں نے کوٹ کرنا ہے، اورسیز پاکستانیوں نے ویڈیوز بھی بنانی ہے۔ اورسیز پاکستانیوں نے پاکستان سے باہر پراگرامات کرنے ہیں، پاکستانیوں نے بھی ویڈیو بنانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 11 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پر پورے پاکستان کو دعوت دے رہا ہے
گھبرانا نہیں ہے ۔
وزیراعلی سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کے لیے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 11 اکتوبر کو پورے پاکستان سے قافلے صوابی پہنچنے کی دعوت دے رہا ہو۔ 13 اکتوبر کو پشاور ڈویژن، ملاکنڈ ڈویژن، کرک اور کوہاٹ ڈویژن کے قافلے براہِ راست صوابی انٹرچینج پہنچیں گے۔ ہزارہ ریجن کو پلان 13 اکتوبر کو بتاونگا۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں ڈویژن کے قافلے سی پیک کے راستے آئیں گے اور مارچ میں شامل ہوں گے۔ آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان 13 اکتوبر کو میں صوابی انٹرچینج پر کرونگا۔

WhatsApp
Get Alert