وزیراعلی خیبرپختونخواہ کا لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کے لیے لائحہ عمل کا اعلان

11 اکتوبر کو پورے پاکستان سے قافلے صوابی انٹرچینج پہنچیں گے، یہ جو ہمیں طالبان یا دہشتگردوں کے ساتھ منسلک کررہے ہیں، تو یاد رکھیں! 1994 میں پیپلزپارٹی کا وزیرداخلہ طالبان کو ’مائی بوائز‘ کہتا تھا، سہیل آفریدی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعلی خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کے لیے لائحہ عمل کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ 11 اکتوبر کو پورے پاکستان سے قافلے صوابی انٹرچینج پہنچیں گے۔ انہوں نے لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو ہمیں طالبان یا دہشتگردوں کے ساتھ منسلک کررہے ہیں، تو یاد رکھیں! 1994میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی ، نصیراللہ بابر ان کا وزیرداخلہ تھا، وہ طالبان کو ’مائی بوائز‘ کہتا تھا، اس وقت پی ٹی آئی نہیں تھی اور تحریک انصاف کی حکومت بھی نہیں تھی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کا پلان دینے جارہا ہوں، اس پلان کو انہوں نے کوٹ کرنا ہے، اورسیز پاکستانیوں نے ویڈیوز بھی بنانی ہے۔
اورسیز پاکستانیوں نے پاکستان سے باہر پراگرامات کرنے ہیں، پاکستانیوں نے بھی ویڈیو بنانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 11 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پر پورے پاکستان کو دعوت دے رہا ہے
گھبرانا نہیں ہے ۔
وزیراعلی سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کے لیے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 11 اکتوبر کو پورے پاکستان سے قافلے صوابی پہنچنے کی دعوت دے رہا ہو۔ 13 اکتوبر کو پشاور ڈویژن، ملاکنڈ ڈویژن، کرک اور کوہاٹ ڈویژن کے قافلے براہِ راست صوابی انٹرچینج پہنچیں گے۔ ہزارہ ریجن کو پلان 13 اکتوبر کو بتاونگا۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں ڈویژن کے قافلے سی پیک کے راستے آئیں گے اور مارچ میں شامل ہوں گے۔
آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان 13 اکتوبر کو میں صوابی انٹرچینج پر کرونگا۔ دوسری جانب جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے منیب فاروق نے بتایا کہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہے جس کو پچھلے 10 دنوں سے سوچا سمجھا جارہا ہے، اگر رکاوٹ نہ بھی کہیں لیکن بعد کی صورتحال پر بات ہورہی تھی، اب تک ہورہی ہے۔ لیکن یہ بات حتمی ہے کہ انتہائی قدم اٹھایا جائے گا، اس کے بہت سے سیاسی انتظامی نتائج ہوں گے، ملک کے جمہوری اسٹرکچر پر بھی اثرات ہوں گے،لیکن دیکھنا یہ ہے کہ گورنرراج یا ایمرجنسی کا نفاذصرف بارڈ ایریاز کے اضلاع پر ہوگا، یا کچھ دوسرے اضلاع بھی اس میں شامل ہوں گے۔
آج کے پی میں صوبائی حکومت کی رٹ ناہونے کے برابر ہے، ماحول میں اب شدت آگئی ہے، سنا جارہا ہے کہ کچھ میٹنگز ہورہی ہیں، اس سے یہی لگتا ہے کہ وہ گھڑی آئی ہے جس کا انتظار تھا۔ گورنرراج یا ایمرجنسی کا تعلق لانگ مارچ سے نہیں ہے، سہیل آفریدی کے ساتھ اب مزید چلنا ناممکن ہے، ان کی کرسی نہیں بچ سکے گی۔

WhatsApp
Get Alert