خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا اصولی فیصلہ ہوچکا ہے، منیب فاروق

وفاقی حکومت اور مقتدرہ کے مطابق سہیل آفریدی کے ساتھ مزید چلنا ممکن نہیں، ان کی کرسی نہیں بچ سکے گی، ایمرجنسی کا تعلق لانگ مارچ سے نہیں ہے، سینئر صحافی کی گفتگو


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سینئر تجزیہ کار منیب فاروق کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا اصولی فیصلہ ہوچکا ہے، وفاقی حکومت اور مقتدرہ اس بات پر متفق ہیں کہ سہیل آفریدی کے ساتھ مزید چلنا ممکن نہیں، ان کی کرسی نہیں بچ سکے گی، ایمرجنسی کا تعلق لانگ مارچ سے نہیں ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے منیب فاروق نے بتایا کہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہے جس کو پچھلے 10 دنوں سے سوچا سمجھا جارہا ہے، اگر رکاوٹ نہ بھی کہیں لیکن بعد کی صورتحال پر بات ہورہی تھی، اب تک ہورہی ہے۔
لیکن یہ بات حتمی ہے کہ انتہائی قدم اٹھایا جائے گا، اس کے بہت سے سیاسی انتظامی نتائج ہوں گے، ملک کے جمہوری اسٹرکچر پر بھی اثرات ہوں گے،لیکن دیکھنا یہ ہے کہ گورنرراج یا ایمرجنسی کا نفاذصرف بارڈ ایریاز کے اضلاع پر ہوگا، یا کچھ دوسرے اضلاع بھی اس میں شامل ہوں گے۔
آج کے پی میں صوبائی حکومت کی رٹ ناہونے کے برابر ہے، ماحول میں اب شدت آگئی ہے، سنا جارہا ہے کہ کچھ میٹنگز ہورہی ہیں، اس سے یہی لگتا ہے کہ وہ گھڑی آئی ہے جس کا انتظار تھا۔
گورنرراج یا ایمرجنسی کا تعلق لانگ مارچ سے نہیں ہے، سہیل آفریدی کے ساتھ اب مزید چلنا ناممکن ہے، ان کی کرسی نہیں بچ سکے گی۔کے پی میں امن وامان کی صورتحال سے متعلق شاید رانا ثناء اللہ کو بھی مکمل علم نہیں ہے۔ مزید برآں گورنرخیبرپختونخواہ فیصل کریم کنڈی نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ چیلنج کرتا ہوں کہ پی ٹی آئی یا صوبائی حکومت کی اگر ٹانگیں نہیں کانپتی تو دہشتگردوں کیخلاف ایک بیان تو دےدیں، لیکن پی ٹی آئی میں اتنی جرات نہیں کہ افغانستان یا دہشتگردوں کے خلاف بیان بھی دے دیں کیونکہ یہ دہشتگردوں کے سہولت کار ہیں۔
انہوں نے نیوزکانفرنس میں کہا کہ میں پوری پی ٹی آئی جماعت کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر آپ میں جرات ہے ، آپ غیرت ہے، آپ کی اگر ٹانگیں نہیں کانپتی، آپ کا اگر بلڈ پریشر لو نہیں ہوتا، تو آج آپ اپنی فورسز کے ساتھ کھڑے ہوکر ان دہشتگردوں کے خلاف ایک بیان تو دے دیں، جو آج میری فوج پولیس اور پشتونوں کا قتل کررہے ہیں، شہادتیں ہم دے رہے ہیں، لیکن پی ٹی آئی میں اتنی جرات نہیں ہے کہ یہ افغانستان ، دہشتگردوں کیخلاف ایک بیان بھی دے دیں، کیونکہ یہ ان کے سہولتکار ہیں، الیکشن میں پھر یہ ان کے سہولتکار بنتے ہیں، کہتے کہ بڑے لوگوں نے ان کو ووٹ دیئے، ان کو لوگوں کی سپورٹ کس نے دی؟ان کو الیکشن میں سہولتکاری یہی دہشتگرد کرتے ہیں۔
اسی طرح گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تحریک انصاف اور وزیراعلی سہیل آفریدی کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں گورنرہاؤس کی حفاظت کا پتا ہے، مجھے پتا ہے کہ آپ لوگوں کو کیسے فکس کرنا ہے۔ انہوں نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی لیڈران کہتے ہم نہ ہوئے تو ورکرز آپ چلے جانا، تم کدھر چھپو گے ؟ جرات ہے تو پہلے لیڈر آجائیں ، ہمیں گورنرہاؤس کی حفاظت کا پتہ ہے اور مجھے پتہ ہے کہ آپ کو کیسے فکس کرنا ہے، ڈائیلاگ میں نہیں بولتا میں عملی اقدامات کرتا ہوں، مجھے پتہ ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ کیسے ڈیل کرنا ہے؟ اگر آپ لوگوں نے 9 جیسی کوشش کی تو پہلے 9 مئی کا داغ تو ابھی تک نہیں دھو سکے۔
پھر مجھے پتا کہ آپ لوگوں کے ساتھ کیسے نمٹنا ہے، آپ کو پتا چلے گا کہ کس کیساتھ واسطہ ہے، آپ پھر اپنی نسلوں کو بتائیں گے کہ اس قسم کی سیاست مت کرنا۔

WhatsApp
Get Alert