پانی اور بجلی بچانے کے لیے گیزر کا درجہ حرارت کتنا رکھنا چاہیے؟

لاہور(قدرت روزنامہ)سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گھروں کے اندر گیزر کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لوگ گرمیوں میں بھی نیم گرم پانی سے نہاتے ہوئے استعمال کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ گیزر آن کرکے بھول جاتے ہیں اور اس کے خود بخود بند ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ طریقہ نہ صرف پانی کا ضیاع کرتا ہے بلکہ آپ کے بجلی کے بل کو بھی کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

گیزر کا آٹو کٹ فیچر صرف حفاظت کے لیے ہوتا ہے، بجلی اور پانی کی بچت کے لیے نہیں لیکن اگر اسے ضرورت سے زیادہ دیر تک چلایا جائے یا درجہ حرارت بہت زیادہ رکھا جائے تو گیس اور بجلی کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔

کچھ گھروں میں گیس سے چلنے والے گیزر استعمال ہوتے ہیں، جبکہ بعض گھروں میں بجلی والے گیزر یا فوری پانی گرم کرنے والے آلات موجود ہیں۔ اس لیے گیزر کی قسم کے مطابق اس کا درست استعمال کرنا ضروری ہے۔

چند آسان احتیاطی تدابیر اپنا کر گرم پانی کی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ گیس، بجلی اور پانی کی بچت بھی کی جا سکتی ہے۔

گیزر کا درجہ حرارت کتنا رکھنا چاہیے؟

گھروں میں پانی گرم کرنے کے لیے گیزر کا درجہ حرارت عموماً 50 سے 60 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رکھا جا سکتا ہے، بشرطیکہ یہ گیزر بنانے والی کمپنی کی ہدایات کے مطابق ہو۔ اس سے پانی مناسب حد تک گرم رہتا ہے اور بہت زیادہ درجہ حرارت پر پانی گرم کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔

نہانے کے لیے تقریباً 37 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کا پانی نارمل محسوس ہوتا ہے۔ اگر گیزر کا پانی زیادہ گرم ہو تو اسے ٹھنڈے پانی کے ساتھ ملا کر استعمال کریں۔

اگر آپ گیزر کا صحیح استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اسے نہانے سے صرف پندره منٹ پہلے آن کریں اور نہانے سے پہلے ہی بند کر دیں۔ چھوٹے سائز کے گیزر کے لیے دس منٹ کا وقت بھی کافی ہوتا ہے۔

بچوں اور بزرگوں کے لیے پانی کی گرمی پہلے جانچنا خاص طور پر ضروری ہے، کیونکہ زیادہ گرم پانی جلد کو جھلسا سکتا ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھیں کہ گیزر کے اندر پانی کا درجہ حرارت اور نہانے کے لیے استعمال ہونے والے پانی کا درجہ حرارت الگ ہو سکتا ہے۔

گیس والے گیزر سے بچت کیسے کریں؟

بہت سے گھروں میں گیس سے چلنے والے گیزر استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں گیس کی کھپت کا تعلق گیزر کی قسم، پانی کے درجہ حرارت، استعمال کے دورانیے اور مشین کی کارکردگی سے ہوتا ہے۔

اگر گیزر میں درجہ حرارت کم یا زیادہ کرنے کا نوب موجود ہے تو اسے ضرورت کے مطابق ترتیب دیں۔ پانی کو بلاوجہ بہت زیادہ گرم کرنے سے گریز کریں۔ اگر گیزر کو بار بار استعمال کرنا ہو تو اس کی ہدایات کے مطابق اسے چلائیں اور استعمال ختم ہونے کے بعد بند کر دیں، خصوصاً اگر اس میں مسلسل جلنے والا پائلٹ یا مستقل شعلہ موجود ہو۔

گیس کی فراہمی کم ہونے کی صورت میں گیزر کو بار بار چلانے یا اس کی حفاظتی ترتیب میں خود سے تبدیلی کرنے کے بجائے مستند ٹیکنیشن سے معائنہ کروائیں۔

گیس کی بچت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ گیزر میں گیس کے اخراج کا کوئی مسئلہ نہ ہو اور اس کی بروقت صفائی اور مرمت ہوتی رہے۔

بجلی والے گیزر میں کتنے یونٹ خرچ ہوتے ہیں؟

بجلی سے چلنے والے گیزر کی کھپت اس کی طاقت اور استعمال کے وقت پر منحصر ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر، 3 ہزار واٹ (3 کلوواٹ) کا گیزر اگر ایک گھنٹے تک مسلسل چلے تو تقریباً 3 یونٹ بجلی خرچ کرے گا۔ اگر اسے روزانہ ایک گھنٹہ چلایا جائے تو ایک ماہ میں تقریباً 90 یونٹ، جبکہ روزانہ دو گھنٹے چلانے سے 180 یونٹ بجلی خرچ ہو سکتی ہے۔

تاہم، یہ حساب گیزر کے مسلسل چلنے کی صورت میں ہے۔ بعض گیزر پانی گرم ہونے کے بعد خود ہی ہیٹنگ بند کر دیتے ہیں، اس لیے ان کی بجلی کی کھپت کم بھی ہو سکتی ہے۔

بجلی بچانے کے لیے گیزر صرف ضرورت کے وقت چلائیں اور پانی گرم ہونے کے بعد اسے بند کر دیں۔

گیزر کتنی دیر پہلے چلانا چاہیے؟

چھوٹے گیزر میں پانی جلد گرم ہو سکتا ہے، جبکہ بڑے ٹینک کو زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ بہتر ہے کہ گیزر کی کمپنی کی ہدایات کے مطابق پانی گرم کریں۔

اگر آپ کے گھر میں فوری پانی گرم کرنے والا گیزر ہے تو اس کا طریقۂ استعمال اسٹوریج گیزر سے مختلف ہو سکتا ہے۔ اسے استعمال کرتے وقت کمپنی کی ہدایات پر عمل کریں اور غیر ضروری طور پر زیادہ درجہ حرارت مقرر نہ کریں۔

پانی بچانے کے لیے کیا کریں؟

پانی کی فراہمی کے مسائل کے پیش نظر پانی کا محتاط استعمال بھی اہم ہے۔ نہاتے وقت بالٹی استعمال کرنا ایک آسان طریقہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے پانی کی مقدار پر قابو رکھنا آسان ہوتا ہے۔

شاور کے نیچے نہانے سے پانی تیزی سے بہہ جاتا ہے اور گیزر کا گرم پانی جلدی ختم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے اسے بار بار آن کرنا پڑتا ہے۔

اگر آپ شاور استعمال کرتے ہیں تو نہانے کا دورانیہ مختصر رکھیں اور ضرورت نہ ہونے پر پانی بند کر دیں۔ اس طرح پانی کے ساتھ گرم پانی تیار کرنے کے لیے درکار گیس یا بجلی کی بھی بچت ہو سکتی ہے۔

نل سے پانی بلاوجہ بہنے نہ دیں اور گیزر سے آنے والے گرم پانی کو ضرورت سے زیادہ ضائع کرنے سے بچیں۔

گیزر کی صفائی اور حفاظت بھی ضروری ہے

بعض اوقات پانی میں نمکیات اور معدنیات کی مقدار زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایسے پانی کے استعمال سے گیزر کے ٹینک یا حرارتی حصوں میں تہہ جمع ہونے کا امکان ہوتا ہے، جو وقت کے ساتھ اس کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔

اگر گیزر پہلے کی نسبت زیادہ وقت لے رہا ہو، پانی مناسب طور پر گرم نہ ہو رہا ہو یا اس سے غیر معمولی آوازیں آ رہی ہوں تو مستند ٹیکنیشن سے اس کی جانچ کروائیں۔

گیس والے گیزر میں مناسب ہوا کی آمدورفت بہت ضروری ہے۔ اسے بند اور ہوا سے محروم جگہ میں نصب کرنے سے خطرناک گیس جمع ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔

گیس کے اخراج کی بو محسوس ہو تو بجلی کے سوئچ نہ چلائیں، آگ نہ جلائیں، محفوظ جگہ پر جائیں اور متعلقہ گیس کمپنی یا ہنگامی سروس سے رابطہ کریں۔

بجلی والے گیزر میں تاروں، سوئچ، ارتھنگ اور حفاظتی نظام کی جانچ بھی ضروری ہے۔

اگر آپ نیا گیزر خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اپنے گھر میں گیس اور بجلی کی دستیابی، گھر کے افراد کی تعداد، پانی کی ضرورت اور مشین کی توانائی بچانے کی صلاحیت کو مدنظر رکھیں۔

یاد رکھیں کہ گیزر کا درست استعمال صرف بل کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ گھر میں محفوظ طریقے سے گرم پانی حاصل کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ چند چھوٹی تبدیلیاں روزانہ کے اخراجات کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert