عمرہ ویزے پر سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے ساتھ کیا ہوا؟ بڑی خبر آ گئی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)عمرے کی ادائیگی کے نام پر انسانی اسمگلنگ کے خدشات سامنے آنے کے بعد 2 لاکھ 12 ہزار سے زائد پاکستانی زائرین کی سعودی عرب سے وطن واپسی نہ ہونے کا معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے رواں سال عمرے کی ادائیگی کے لیے پاکستان کے مختلف ہوائی اڈوں سے سعودی عرب جانے والے یہ زائرین تاحال وطن واپس نہیں پہنچے جس پر ان کے قیام اور سفر کے مقاصد کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق رواں سال عمرے کی ادائیگی کے لیے پاکستان سے سعودی عرب جانے والے 2 لاکھ 12 ہزار سے زائد پاکستانی زائرین کی وطن واپسی ریکارڈ نہیں ہوئی۔ اس صورتحال نے عمرے کے نام پر بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی نقل و حرکت، سفری انتظامات اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے نظام پر توجہ مبذول کرا دی ہے۔
عمرے کے لیے سعودی عرب جانے والے زائرین عموماً مخصوص مدت کے لیے قیام کرتے ہیں اور عبادت کی ادائیگی کے بعد وطن واپس آتے ہیں۔ تاہم بڑی تعداد میں زائرین کی واپسی ریکارڈ نہ ہونے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد یہ جاننا اہم ہو گیا ہے کہ آیا یہ افراد سعودی عرب میں بدستور موجود ہیں، ان کے قیام کی مدت میں توسیع ہوئی ہے یا وہ کسی دوسرے مقصد کے تحت وہاں رکے ہوئے ہیں۔
اس معاملے میں انسانی اسمگلنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم صرف وطن واپسی کا ریکارڈ نہ ہونے کی بنیاد پر تمام افراد کو انسانی اسمگلنگ کا شکار یا غیرقانونی طور پر مقیم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس حوالے سے حتمی صورتحال متعلقہ حکام کی تحقیقات اور اعدادوشمار کی تصدیق کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ سعودی عرب میں موجود پاکستانی زائرین کے قیام، ویزوں کی نوعیت، واپسی کے ٹکٹوں اور سفری ریکارڈ کی جانچ کی جائے۔ اس کے ساتھ عمرہ آپریٹرز اور ٹریول ایجنسیوں کے کردار کا تعین بھی اہمیت رکھتا ہے، خصوصاً اگر کسی فرد کو عمرے کے نام پر ملازمت یا دوسرے مقاصد کے لیے بیرون ملک بھیجا گیا ہو۔
انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے متعلقہ اداروں کی نگرانی، سفری دستاویزات کی جانچ اور عوامی آگاہی اہم اقدامات سمجھے جاتے ہیں۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ عمرے کے لیے سفر کرنے سے قبل مستند ٹریول آپریٹرز سے رابطہ کریں، ویزے کی شرائط سمجھیں اور کسی ایسے شخص کے جھانسے میں نہ آئیں جو عمرے کے ویزے پر غیرقانونی ملازمت یا غیرمعمولی مالی فوائد کا وعدہ کرے۔
2 لاکھ 12 ہزار سے زائد پاکستانی زائرین کی وطن واپسی کا معاملہ ایک اہم سوال بن کر سامنے آیا ہے، تاہم اس تعداد کی وجوہات، سعودی عرب میں موجود افراد کی اصل صورتحال اور انسانی اسمگلنگ سے اس کے ممکنہ تعلق کے بارے میں مزید مستند معلومات درکار ہیں۔ متعلقہ حکام کی جانب سے تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس معاملے کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین ممکن ہوگا۔
