پاکستان کی سیاست اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کے گرد گھوم رہی ہے، حامد میر
گورنر راج کے نام پر سیاسی جماعت کیخلاف آپریشن سے دہشتگردی ختم نہیں ہوگی، شہبازشریف کی حکومت عمران خان فوبیا کی قیدی ہے، جو پاکستان کو سول آمریت کی طرف دھکیل چکی ہے؛ سینئر صحافی کا کالم

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کی پوری سیاست راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کے گرد گھوم رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اپنے تازہ ترین کالم میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کے واضح احکامات کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے اس پر عمل درآمد نہ کیا گیا، جس کے ردِعمل میں خیبرپختونخواہ کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا اعلان کیا، حکومت نے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ سہیل آفریدی پر ڈالتے ہوئے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا جو کہ ایک منتخب حکومت کے خاتمے کا سبب بنا۔
گورنر راج اور ایمر جنسی سے جڑی تلخ تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی بجائے ماضی کی غلطیوں کو دہرایا جا رہا ہے۔ گورنر راج کے نام پر ایک سیاسی جماعت کے خلاف آپریشن سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ختم نہیں ہو گی۔ شہباز شریف کی حکومت عمران خان فوبیا کی قیدی بن چکی ہے۔ یہ قیدی حکومت پاکستان کو سول آمریت کی طرف دھکیل چکی ہے۔ اس حکومت کو عمران خان فوبیا سے رہا ہونا ہے اور بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے انجام سے سبق سیکھنا چاہئے۔
https://t.co/eYcct47Z8z
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) October 12, 2026
حامد میر نے کالم میں تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ ماضی کے برعکس عمران خان نے سمجھوتہ کرکے بیرونِ ملک جانے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث حکومت انہیں رہائی یا ہسپتال منتقلی کی سہولت دینے سے گریزاں ہے، اگر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کیا جاتا تو خیبر پختونخواہ میں سیاسی بحران، گورنر راج اور لانگ مارچ جیسی نوبت نہ آتی، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیاں ملک کو سول آمریت کی طرف دھکیل رہی ہیں اور ایسے اقدامات سے صوبے میں امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔
سینئر صحافی نے مزید نشاندہی کی کہ یہ تمام تر اندرونی سیاسی کشیدگی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان کو بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں پر شدید سفارتی و سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے اور گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026ء میں پاکستان کی درجہ بندی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، حکومت بیرونی محاذوں پر کامیابی اور ملک میں داخلی استحکام کے لیے سیاسی انتقام کے بجائے تمام سیاسی قوتوں کو متحد کرے اور خطے کی تاریخ سے سبق حاصل کرے۔
