پی ٹی آئی کی لیڈرشپ اور بیانیہ ایسے لوگوں کے ہاتھ چڑھ گیا جو سوشل میڈیا پر چند ڈالر کمانے سے آگے نہیں سوچ سکتے، عمر سیف

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سابق وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی عمر سیف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ اور بیانیہ ایسے لوگوں کے ہاتھ چڑھ گیا جو سوشل میڈیا پر چند ڈالر کمانے سے آگے نہیں سوچ سکتے۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا المیہ یہ ہے کے یہ ایک پڑھے لکھے نوجوان طبقے کی نماندگی کر سکتی ہے جو پرانے فرسودہ نظام کو بدل کر ایک نیا پاکستان بنتا دیکھنا چاہتا ہے۔
مگر تحریک انصاف کی لیڈر شپ، نماندگی، اور بیانیہ ایسے لوگوں کے ہاتھ چڑھ گیا ہے جو سوشل میڈیا پر لغو اور رکیک تبصرے کر کے چند ڈالر کمانے سے آگے نہیں سوچ سکتے۔
تحریک انصاف کا المیہ یہ ہے کے یہ ایک پڑھے لکھے
نوجوان طبقے کی نماندگی کر سکتی ہے جو پرانے فرسودہ نظام کو بدل کر ایک نیا پاکستان بنتا دیکھنا چاہتا ہے۔مگر تحریک انصاف کی لیڈر شپ، نماندگی، اور بیانیہ ایسے لوگوں کے ہاتھ چڑھ گیا ہے جو سوشل میڈیا پر لغو اور رکیک تبصرے کر کے چند ڈالر کمانے سے آگے نہیں سوچ سکتے ۔۔۔
ان لوگوں کے لئیے PTI ایک ایسی سونے کی مرغی ہے جس کا نظریاتی vote bank ان کے لئیے صرف کمائی کا زریعہ ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو ایجنسیوں کے ٹاوٹ رہے۔ اب لاوارث ہیں اور جلا وطنی میں اپنا غصہ اس ملک پر نکال رہے ہیں۔ PTI کے سپوٹر کو اسے لوگوں کے ایجنڈے سے دور رہنا چاہیے۔ عادل راجہ، معید پیزادہ، اور شہباز گل وغیرہ نے نیا پاکستان نہیں بنانا۔ ان گھس پیٹھوں سے جان چھڑایں ۔۔۔
— Umar Saif (@umarsaif) October 12, 2026
ان لوگوں کے لئیے پی ٹی آئی ایک ایسی سونے کی مرغی ہے جس کا نظریاتی وووٹ بینک ان کے لئیے صرف کمائی کا زریعہ ہے۔
ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو ایجنسیوں کے ٹاوٹ رہے۔
اب لاوارث ہیں اور جلا وطنی میں اپنا غصہ اس ملک پر نکال رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے سپورٹرز کو اسے لوگوں کے ایجنڈے سے دور رہنا چاہیے۔
عادل راجہ، معید پیزادہ، اور شہباز گل وغیرہ نے نیا پاکستان نہیں بنانا۔ ان گھس پیٹھوں سے جان چھڑائیں۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے نوجوانوں سے میری اپیل ہے کہ جن اضلاع میں ایمرجنسی نافذ نہیں ہے اور جہاں گورنر راج جیسے ڈرامے یا دیگر آفات مسلط نہیں کی گئیں، وہاں وہ اپنی جمہوری جدوجہد اور تحریک کو جاری رکھیں۔
دفعہ 144 کی کوئی پرواہ نہ کریں، کیا اب وہ ہمارے بچوں کو ماریں گے؟ چار کروڑ انسانوں کے حقِ رائے دہی کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ یہ ان چار کروڑ عوام کی توہین ہے جنہوں نے الیکشن جیتا تھا۔ جبکہ سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں الیکشن چوری کرنے والے آج مزے سے حکومتیں کر رہے ہیں اور پاکستان کو ایک دودھ دینے والی گائے کی طرح دوہا جا رہا ہے۔
