بلوچستان میں ڈی اے پی اور یوریا کھادوں کی مبینہ مصنوعی قلت اور بلیک مارکیٹنگ، کاشتکاروں کا معاشی استحصال بند کیا جائے: پشتونخوا نیپ
دو ماہ سے کھادوں کے بحران سے پیداواری لاگت بڑھ گئی، باغات اور اہم فصلوں کی پیداوار شدید متاثر ہونے کا خدشہ

زراعت معاشی بقا کا بنیادی ذریعہ ہے، حکومت ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی اور سرکاری نرخوں پر فراہمی یقینی بنائے: نصراللہ زیرے
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے اور دیگر صوبائی رہنماں نے صوبے میں ڈی اے پی اور یوریا کھادوں کی عدم دستیابی، مبینہ مصنوعی قلت اور بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے زمینداروں اور کاشتکاروں کے معاشی استحصال کے مترادف قرار دیا ہے۔اپنے مشترکہ بیان میں رہنماں نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ سے کھادوں کی دستیابی میں مشکلات کے باعث زمینداروں اور کاشتکاروں کے پیداواری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق فصلوں کی نشوونما کے اہم مرحلے پر کھاد نہ ملنے سے باغات، سبزیوں، گندم، چاول، کپاس اور دیگر فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت صوبے کے لاکھوں خاندانوں کے روزگار اور معاشی بقا کا بنیادی ذریعہ ہے، لیکن کھادوں کی قلت اور مہنگے داموں فروخت نے پہلے ہی معاشی مشکلات سے دوچار کاشتکاروں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اگر مسئلے کو فوری حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور مجموعی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔رہنماں نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ زرعی شعبے کے مسائل حل کرے، کھادوں کی مصنوعی قلت اور بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام کرے اور کاشتکاروں کو معیاری کھاد مناسب نرخوں پر فراہم کرنے کے لیے مثر اقدامات اٹھائے۔بیان میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ صوبے کے تمام زرعی علاقوں میں ڈی اے پی اور یوریا کھادوں کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کے لیے مثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔
