نام نہاد جمہوریت کے علمبرداروں نے مفادات کی خاطر غیر جمہوری قوتوں کا آلہ کار بن کر عوامی مینڈیٹ کو نقصان پہنچایا: جے یو آئی

جب پارٹیاں وقتی فائدے کے لیے غیر جمہوری قوتوں کا سہارا لیں تو خمیازہ پورے ملک اور نظام کو بھگتنا پڑتا ہے


سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں مگر انہیں اقتدار کی کشمکش اور غیر جمہوری مداخلت کا ذریعہ بنانا تباہ کن ہے: مولانا عبدالرحمن رفیق و دیگر
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس, سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سرپرستِ اعلیٰ مفتی محمد روزی خان، مولانا حفیظ اللہ، حاجی نعمت اللہ خان اچکزئی،مولانا محمد سلیمان، حافظ دوست محمد مینگل، مولانا عبدالبصیر، حافظ رشید احمد، حاجی محمد شاہ لالا، مفتی نیک محمد فاروقی اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ جمہوریت کے نام نہاد علمبرداروں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آلہ کار کا کردار ادا کرتے ہوئے غیر جمہوری قوتوں کو مضبوط کیا، جس کے نتیجے میں جمہوری اقدار، عوامی مینڈیٹ اور پارلیمانی بالادستی کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت محض نعروں، تقریروں اور سیاسی دعوؤں کا نام نہیں بلکہ یہ عوام کے حقِ حکمرانی، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کا عملی نظام ہے، لیکن بدقسمتی سے بعض سیاسی قوتوں نے جمہوریت کو اپنے مفادات کے حصول کا ذریعہ بنا کر اس کے بنیادی اصولوں کو کمزور کیا۔ جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے کہا کہ جب سیاسی جماعتیں اپنے وقتی مفادات کے لیے غیر جمہوری قوتوں کا سہارا لیتی ہیں تو اس کا نقصان کسی ایک جماعت کو نہیں بلکہ پورے ملک، جمہوری نظام اور عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر آئین کی بالادستی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کے لیے یکساں مؤقف اختیار کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ اصولی سیاست، آئینی جدوجہد اور جمہوری اقدار کی پاسداری کو مقدم رکھا ہے اور ہر دور میں عوام کے حقِ حکمرانی کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، لیکن اختلافات کو ذاتی مفادات، اقتدار کی کشمکش اور غیر جمہوری مداخلت کا ذریعہ بنانا ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب سیاسی نعروں کے بجائے عملی کردار دیکھنا چاہتے ہیں، اس لیے جمہوریت کے دعوے کرنے والی جماعتوں کو اپنے طرزِ عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی عوامی مینڈیٹ، آئین اور پارلیمانی نظام کی بالادستی پر یقین رکھتی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert