حفیظ اللہ نیازی کا محسن نقوی اور فیصل کریم کنڈی کو پشاور کی عام مساجد میں جانے کا چیلنج

عمران خان کی مقبولیت کا اٹر زائل کرنے کیلئے دونوں بھائی چاہے بھیس بدل کر چلے جائیں، عوام میں گھل مل جائیں اور ان سے نعمتیں، رحمتیں، عنایتیں، نوازشیں، دعائیں، نیک تمنائیں سمیٹیں بلکہ نقد وصول کریں؛ تجزیہ کار


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) معروف تجزیہ کار اور کالم نگار حفیظ اللہ نیازی نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور گورنر خیبر پختونخواہ فیصل کریم کنڈی کے صوبے میں پی ٹی آئی کے خاتمے سے متعلق حالیہ دعؤوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں پشاور کی عام مساجد یا عوامی مقامات پر بغیر اعلیٰ سکیورٹی کے جا کر عوامی ردِعمل کا سامنا کرنے کا چیلنج دے دیا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنی ایک تحریر میں انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ خیبر پختونخواہ سے پی ٹی آئی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ پر کہیں جوں تک نہیں ریںگی۔


تجزیہ کار نے یاد دہانی کرائی کہ چند ہفتے قبل لاہور میں ایک نشست کے دوران خود گورنر فیصل کریم کنڈی اور دیگر حاضرین کا اس بات پر اتفاقِ رائے تھا کہ خیبر پختونخواہ کی بھاری اکثریت عمران خان کی دیوانی ہے اور ان کے خلاف کچھ سننے کو تیار نہیں ہے، اگر وہ واقعی سمجھتے ہیں کہ عوام نے اس اقدام کو قبول کرلیا ہے تو آنے والے جمعہ کو پشاور کی کسی بھی عام مسجد میں بغیر کسی بڑی سکیورٹی کے عام شہریوں سے گھل مل کر ان کے جذبات اور نیک تمناؤں کا بچشمِ خود جائزہ لیں۔
انہوں نے طنزاً کہا کہ اگر دونوں صاحبان گلی محلوں، مساجد اور عوامی سائٹس پر جانے کی ہمت نہیں رکھتے تو پھر یہ بات طے ہے کہ حکومت ریڈ زون کی اونچی فصیلوں اور مورچوں تک محدود رہے گی اور 4 کروڑ سے زائد کی آبادی پر یوں حقِ حکمرانی قائم کرنا ناممکن رہے گا، کاش نئی شاہی مشاورتی کونسل کے نمائندے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی طرح عوام میں نکلنے کی ہمت کرتے جس سے عوامی اعتماد میں اضافہ ہوتا اور دہشت گرد بھی لرزہ براندام رہتے۔

WhatsApp
Get Alert