تحریک انصاف نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے شاہ فیصل الیاس ایڈووکیٹ نے 86 صفحات پر مشتمل رٹ دائر کردی

پشاور(قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ میں نافذ کیے جانے والے گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدام کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا، عدالت سے مقدمے کی جلد سماعت کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے شاہ فیصل الیاس ایڈووکیٹ نے پشاور ہائیکورٹ میں 86 صفحات پر مشتمل آئینی رٹ دائر کی ہے۔
درخواست دائر کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر کے ایک منتخب جمہوری حکومت کو غیر آئینی طریقے سے ختم کیا گیا، عدالتِ عالیہ صوبے میں جمہوری حکومت کو بحال کرے گی، پی ٹی آئی اس غیر قانونی اقدام کے خلاف اپنی آئینی اور سیاسی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی اور عدالت سے درخواست کی ہے کہ اس اہم معاملے کی جلد از جلد سماعت کی جائے۔
پی ٹی آئی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے شاہ فیصل الیاس ایڈووکیٹ نے 86 صفحات پر مشتمل رٹ دائر کردی https://t.co/Let2wuJc8h
— Kamran Ali (@akamran111) October 14, 2026
درخواست کے قانونی نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے معروف قانون دان اور پارٹی رہنما سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ سراسر غیر آئینی اور غیر قانونی ایمرجنسی اور گورنر راج ہے، آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 232 کہتا ہے کہ ایمرجنسی اس صورت میں لگائی جا سکتی ہے جب ملک یا صوبے کے اندر ایسا کوئی شدید داخلی انتشار ہو جو صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو جائے اور اس کے لیے خود صوبائی اسمبلی قرارداد پاس کرے جو کہ اس معاملے میں بالکل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ کیا ملک پر کسی بیرونی طاقت نے یلغار یا حملہ کیا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو قوم کو بتایا جائے کہ کس ملک سے یلغار ہوئی ہے جس کی بنیاد پر گورنر راج کا جواز تراشا گیا، آئین کا آرٹیکل 234 اس وقت لاگو ہوتا ہے جب صوبائی حکومتی مشینری مکمل طور پر ناکام ہو جائے، جبکہ خیبر پختونخواہ میں ایسا کوئی بحران موجود نہیں تھا۔
