بچا ہوا کھانا اگلے دن زیادہ مزیدار کیوں لگتا ہے؟ دلچسپ وجہ سامنے آگئی

لاہور(قدرت روزنامہ)اکثر لوگوں نے محسوس کیا ہوگا کہ رات کے کھانے میں تیار کی جانے والی دال، سالن یا بریانی اگلے دن پہلے سے زیادہ لذیذ محسوس ہوتی ہے۔ اگرچہ تازہ پکے کھانے کی اپنی اہمیت ہے تاہم بعض پکوان ایسے ہیں جن کا ذائقہ کچھ وقت گزرنے کے بعد زیادہ گہرا، بھرپور اور متوازن محسوس ہونے لگتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کی ایک اہم وجہ کھانے کے مختلف اجزا کے ذائقوں کا باہمی ملاپ ہے جو پکوان کو ٹھنڈا کرکے کچھ وقت رکھنے اور بعد میں دوبارہ گرم کرنے کے دوران اس کے ذائقے اور خوشبو پر اثر انداز ہوتا ہے۔

غذائی تاریخ اور سائنس کے ماہر الوک سنگھ نے ایک گفتگو میں وضاحت کی کہ بچا ہوا کھانا اگلے دن زیادہ مزیدار محسوس ہونے کا رجحان صرف جدید دور تک محدود نہیں بلکہ یہ دنیا کے مختلف خطوں کی روایتی غذائی ثقافت کا حصہ رہا ہے۔
ان کے مطابق ماضی میں گھروں میں کھانا عموماً زیادہ مقدار میں تیار کیا جاتا تھا تاکہ اسے اگلے کھانوں میں بھی استعمال کیا جاسکے۔ یہ طریقہ وقت اور وسائل کی بچت کے ساتھ ساتھ بعض پکوانوں کے ذائقے میں آنے والی تبدیلیوں کا تجربہ کرنے کا ذریعہ بھی بنا۔

کھانے کا ذائقہ بہتر ہونے کی سائنسی وجہ کیا ہے؟
الوک سنگھ کے مطابق جب سالن، دال یا کسی دوسرے پکوان کو ٹھنڈا کرکے کچھ وقت کے لیے رکھا جاتا ہے تو اس کے اجزا کے درمیان ذائقوں کا امتزاج جاری رہتا ہے۔ مصالحے، تیل، خوشبودار اجزا اور سبزیوں یا گوشت سے خارج ہونے والی نمی کھانے میں زیادہ یکساں طور پر پھیل سکتی ہے جس سے مختلف ذائقے ایک دوسرے کے ساتھ بہتر طور پر ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔

ادرک، لہسن، پیاز اور ثابت مصالحوں میں موجود خوشبودار مرکبات بھی کھانا پکنے اور محفوظ رہنے کے دوران تبدیلیوں سے گزرتے ہیں۔ جب کھانے کو دوبارہ گرم کیا جاتا ہے تو اس کی خوشبو دوبارہ نمایاں ہوتی ہے جس سے ذائقہ زیادہ گہرا اور بھرپور محسوس ہوسکتا ہے۔

ماہر کے مطابق یہ تبدیلی خاص طور پر ان پکوانوں میں محسوس ہوتی ہے جن میں مختلف مصالحوں کا استعمال کیا جاتا ہے جیسے سالن، راجما، چھولے اور گوشت کے بعض پکوان۔

دالوں اور دیگر پھلیوں کے دانے وقت گزرنے کے ساتھ مصالحے دار شوربے کو جذب کرسکتے ہیں جبکہ گاڑھے سالن کی ساخت بھی زیادہ یکساں محسوس ہوسکتی ہے۔ اسی طرح بریانی میں چاول اور مصالحوں کا ذائقہ اگلے دن زیادہ گھلا ملا محسوس ہوسکتا ہے۔ تاہم اس کا انحصار پکوان کی ترکیب اور اسے محفوظ کرنے کے طریقے پر ہوتا ہے۔

کیا ہر کھانا اگلے دن زیادہ مزیدار ہوجاتا ہے؟
ماہرین کے مطابق ایسا ہر کھانے کے ساتھ نہیں ہوتا۔ بعض پکوان وقت گزرنے کے بعد زیادہ لذیذ محسوس ہوسکتے ہیں لیکن کچھ کھانے اپنی اصل ساخت اور ذائقہ کھو دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر تلی ہوئی اشیا اپنی خستگی کھو سکتی ہیں، تازہ جڑی بوٹیوں کی خوشبو کم ہوسکتی ہے اور نازک سبزیاں دوبارہ گرم کرنے پر زیادہ گل سکتی ہیں۔

کھانے کے ذائقے کو محسوس کرنے میں خوشبو اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب بچا ہوا کھانا دوبارہ گرم کیا جاتا ہے تو اس کے خوشبودار مرکبات دوبارہ نمایاں ہوسکتے ہیں جس سے کھانا زیادہ لذیذ محسوس ہوتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert