جب آپ کے پاس گراؤنڈ پر عوامی طاقت نہیں تھی تو کس بنیاد پر طاقتور اداروں سے پنگا لینے جا رہے تھے؟ کامران شاہد
2024 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی لیکن عوام نے احتجاج نہیں کیا، عمران خان، بشریٰ بی بی ، سہیل آفریدی گرفتار ہوئے، گورنرراج لگ گیا لیکن عوام نے احتجاج نہیں کیا، پھر اب کس عقلمند نے مشورہ دیا تھا؟ ٹی وی اینکر کامران شاہد

لاہور(قدرت روزنامہ)ٹی وی اینکر کامران شاہد کا کہنا ہے کہ جب آپ کے پاس گراؤنڈ پر عوامی طاقت نہیں تھی تو کس بنیاد پر طاقتور اداروں سے پنگا لینے جا رہے تھے؟ 2024 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی لیکن عوام نے احتجاج نہیں کیا، عمران خان، بشریٰ بی بی ، سہیل آفریدی گرفتار ہوئے، گورنرراج لگ گیا لیکن عوام نے احتجاج نہیں، پھر اب کس عقلمند نے مشورہ دیا تھا؟ دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے نزدیک 2024 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی لیکن عوام نے احتجاج نہیں کیا، اسی طرح گورنر راج کو جتنا بھی غیرآئینی سمجھیں اس کیخلاف خیبرپختونخواہ کی عوام نے احتجاج نہیں کیا۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ہوئی تو کوئی باہر نہیں نکلا۔
عمران خان کی آنکھ ضائع ہوئی، سہیل آفریدی کی گرفتاری ہوئی، گورنر راج لگ گیا کے پی مین عمران خان کی حکومت تحلیل کردی گئی لیکن جب آپ کے پاس عوام کی طاقت آن گراؤنڈ پر نہیں ہے، دلوں میں تو ہے اور ووٹ کی حد تک تو ہے لیکن پاکستان میں ووٹ کی اتنی اہمیت نہیں ہے، جب آپ کے پاس گراؤنڈ پر عوامی طاقت نہیں ہے تو کس بنیاد پر ملک کے طاقتور ترین اداروں اور وفاقی حکومت سے پنگا لینے جا رہے تھے، آپ کو کس عقلمند نے مشورہ دیا تھا؟ آپ میں عقل اور پولیٹیکل ریئلزم کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔
صرف ووٹ کی طاقت کچھ بھی نہیں ہے، تھوڑا سیاسی شعور دکھانا چاہیئے تھا۔
اسی طرح سینئر صحافی مشتاق یوسفزئی کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی نے ہمیں بتایا کہ اگر ان کو نااہل قرار دیا گیا تو پھر پلان بی اور سی ہوگا، مگر پھر ہم نے دیکھا کہ کوئی پلان بی اور سی نہیں تھا، پی ٹی آئی کے جتنے سینئر لوگ تھے ان کو نئے لوگ جاسوس قرار دیتے تھے، اسی لئے وہ احتجاج میں آگے نہیں آئے۔
انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جتنے بھی پرانے لوگوں نے ان کو بات چیت اور مذاکرات کرنے کا کہا تو ان پر الزام عائد کیا گیا کہ یہ ڈرتے ہیں اور جاسوس ہیں، پرانے لوگو ں نے احتجاج کو اس لئے جوائن نہیں کیا کہ ان سب کو پتا ہے کہ ہمارے ورکر مشتعل ہوجاتے ہیں، جیسے9مئی کے واقعات ہوئے اور بعد میں لیڈرشپ پرکیسز بن گئے، اس لئے پرانے لوگوں کو خطرہ تھا کہ اب دوبارہ پھر ان پر کیسز بن جائیں گے۔
سینئر لیڈرز مشورہ کررہے ہیں کہ کس طرح پارٹی کو سنبھالا جائے۔ شوکت یوسفزئی کو شوکاذ نوٹس دینے کی بات ہو رہی تھی،، نئے لوگ جذباتی تھے جن کی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچے۔ پریشان وہی لوگ ہیں جو پرانے لوگ تھے۔ اسد قیصر، شاہرام تراکئی اور شوکت یوسفزئی سمیت سینئر پرانی قیادت رابطوں کا آغاز کر چکی ہے کہ پارٹی کو اب اس مشکل سے کیسے نکالنا ہے، سہیل آفریدی سے میں نے سوال کیا تھا کہ اگر آپ کو نااہل قرار دے دیا گیا تو آپ کیا کریں گے تو انہوں نے کہا پلان بی اور سی ہوگا۔
مگر ہم نے دیکھا ہے کہ کوئی پلان بی اور سی نہیں تھا۔ اسی طرح بیوروچیف وی نیوز ویب سائٹ لحاظ علی نے کہا کہ سہیل آفریدی نے ایک میٹنگ میں سوال رکھا کہ مجھ پر سوشل میڈیا کی جانب سے شدید دباو ہے کہ میں اسلام آباد کی طرف مارچ کیوں نہیں کر رہا۔ میٹنگ میں اسد قیصر اور تیمور جھگڑا نے شدید مخالفت کی،، سہیل آفریدی نے دباو میں اعلان کر دیا بعد میں بیرسٹر گوہر کے زریعے محمود خان اچکزئی سے درخواست کی گئی کہ لانگ مارچ منسوخ کرنے کا اعلان کریں تو انہوں نے انکار کر دیا کہ آپ نے خود اعلان کیا خود نمٹیں۔
۔ کیا وجہ ہے پی ٹی آئی کے کنٹینر پر شاہد خٹک کے علاوہ کوئی نہیں تھا،، بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا، اسد قیصر اور دیگر راہنما نہیں تھے۔۔ پھر سہیل آفریدی نے رسائی کا مطالبہ کر دیا،، وفاق نے ملاقاتیں کروا دیں اور خوب اس کے ساتھ کھیلا۔ پی ٹی آئی کی پوری سینئر قیادت نے لانگ مارچ کی ذمہ داری نہیں لی اور سہیل آفریدی بند گلی میں پھنس گئے۔
