پشاور میں نجی اسکول کی چھت منہدم، 30 افراد جاں بحق، اسکول مالک گرفتار

پشاور(ـقدرت روزنامہ)ڈپٹی کمشنر پشاور نے حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے، جو اسکول کی عمارت کی چھت گرنے کے اسباب کا تعین کرے گی۔
ادھر کمشنر پشاور ڈویژن کیپٹن (ر) خالد محمود واقعے کی اطلاع ملنے پر زخمیوں کی عیادت اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے نصیراللہ بابر میموریل اسپتال پہنچ گئے۔

حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ریسکیو اہلکار ملبے تلے دبے ممکنہ افراد کو تلاش کرنے، انہیں بحفاظت نکالنے اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

گورنر کا اظہارِ افسوس، آئی جی پی کی امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دیر کالونی میں نجی اسکول کے المناک حادثے میں بچوں اور خواتین ٹیچرز کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے.

گورنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے علاج معالجے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔

انہوں نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کی بھی ہدایت کی۔

دوسری جانب سی سی سی پی او پشاور پولیس ترجمان کے مطابق آئی جی پی ذوالفقار حمید نے سی سی پی او پشاور کو امدادی کارروائیوں کی خود نگرانی کرنے اور ملبے تلے دبے افراد کو فوری اور محفوظ طریقے سے نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

آئی جی پی نے چیف ٹریفک آفیسر پشاور کو ایمبولینسوں کی بلا تعطل آمدورفت یقینی بنانے کے لیے گرین کوریڈور قائم کرنے اور اسپتالوں کی جانب جانے والے راستوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔

اسکول مالک گرفتار
سی سی پی او پشاور میاں سعید نے کہا ہے کہ دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد جاں بحق اور 47 زخمی ہوئے، جبکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او میاں سعید نے بتایا کہ دیر کالونی پشاور کا انتہائی گنجان آباد علاقہ ہے اور حادثے کا شکار ہونے والی 3 منزلہ عمارت ایک تنگ گلی میں واقع تھی۔

عمارت کی چھت کے لینٹر میں چوکا استعمال کیا گیا تھا، جبکہ تینوں منزلوں پر کلاس رومز قائم تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلی منزل پر تقریباً 30، دوسری منزل پر 40، جبکہ تیسری اور آخری منزل پر 45 بچے موجود تھے۔

ان کے مطابق عمارت میں مجموعی طور پر تقریباً 110 بچے زیرِ تعلیم تھے، جبکہ یہاں مدرسے کے طلبہ کو بھی تعلیم دی جاتی تھی، یہ ادارہ الخیر نامی ٹرسٹ کے تحت چلایا جا رہا تھا۔

سی سی پی او نے کہا کہ حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک تقریباً 80 فیصد ملبہ ہٹایا جا چکا ہے۔ متعلقہ ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں۔

 

میاں سعید نے کہا کہ تنگ گلی میں واقع ایک غیر محفوظ عمارت میں بچوں کو بٹھانا غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔

’واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ مالکان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔‘

انہوں نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے معاملے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے۔

خیبر پختونخوا کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے لیڈی ریڈنگ اسپتال کا دورہ کیا اور سانحے میں جاں بحق بچوں کے لواحقین سے ملاقات کرکے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا اس سانحے میں متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور غم میں برابر کی شریک ہے اور غم کی اس گھڑی میں بچوں کے والدین اور اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسپتال انتظامیہ اور پولیس اہلکار موقع پر موجود ہیں اور والدین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ جاں بحق بچوں کی میتیں والدین کی سہولت اور خواہش کے مطابق ترتیب وار ان کے حوالے کی جائیں گی، جبکہ قانونی کارروائی اس انداز میں مکمل کی جا رہی ہے کہ لواحقین کو کم سے کم تکلیف ہو۔

مشیر اطلاعات نے کہا کہ جاں بحق اور زخمی افراد کی تعداد میں کسی بھی تبدیلی سے عوام کو آگاہ کیا جاتا رہے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایمبولینسوں اور مریضوں کے لیے راستے کھلے رکھیں اور اسپتال میں غیر ضروری رش سے گریز کریں۔

ثمر ہارون بلور نے مزید کہا کہ سانحے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد اور معاونت یقینی بنائے گی۔

WhatsApp
Get Alert