احتجاج میں شرکت مہنگی پڑ گئی، بالی ووڈ اداکار عمران خان کو بھارت چھوڑنے کا حکم

ممبئی(قدرت روزنامہ) بالی ووڈ اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا سرکاری نوٹس جاری کر دیا ہے۔
ممبئی کے کرانتی میدان میں ہونے والے ایک احتجاج کے دوران حراست میں لیے جانے کے پانچ دن بعد، فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس نے بالی ووڈ اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا سرکاری نوٹس جاری کر دیا ہے۔
بھارتی حکام کا الزام ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف 10 اکتوبر کے مظاہرے میں شرکت کر کے انہوں نے ‘فارنرز ایکٹ’ (غیر ملکیوں سے متعلق قانون) کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ کارروائی بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کیریٹ سومیا کی شکایت پر کی گئی ہے۔ مظاہرے کے دوران عمران خان کی حراست کے بعد بی جے پی رہنما نے الزام عائد کیا کہ اداکار امریکی شہری ہیں اور احتجاج میں ان کی شمولیت قانون کی خلاف ورزی ہے۔
گام دیوی پولیس اسٹیشن میں درج ہونے والی شکایت کو کارروائی کے لیے ایف آر آر او کے شعبے کو بھجوا دیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے نوٹس جاری کرتے ہوئے اداکار کو 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کی ہدایت کی۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق عمران خان کے پاس ‘اوورسیز سٹیزن آف انڈیا کارڈ ہے، جو اس وقت اس تمام تنازع کی بنیادی وجہ بنا ہوا ہے۔ او سی آئی کارڈ ہولڈرز بھارتی نژاد غیر ملکی شہری ہوتے ہیں جنہیں بھارت میں رہنے اور کام کرنے کا تاحیات ویزا حاصل ہوتا ہے، تاہم یہ کارڈ انہیں بھارت کی شہریت نہیں دیتا۔
او سی آئی کارڈ ہولڈرز کو ووٹ ڈالنے یا الیکشن لڑنے کا حق حاصل نہیں ہوتا اور ان پر غیر ملکیوں سے متعلق تمام بھارتی قوانین لاگو ہوتے ہیں۔
اگرچہ او سی آئی کے قوانین میں عام احتجاج میں شرکت کے لیے پہلے سے اجازت لینے کی واضح شرط نہیں ہے، لیکن بھارتی آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت آزادی اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کا حق صرف بھارتی شہریوں تک محدود ہے۔
اس کے علاوہ، شہریت ایکٹ 1955ء کی دفعہ ڈی کے تحت حکومت کے پاس قومی سلامتی اور خودمختاری کی بنیاد پر کسی بھی شخص کی او سی آئی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیار موجود ہے۔
واضح رہے کہ یہ تمام معاملہ 10 اکتوبر کو ہونے والے اس مظاہرے سے جڑا ہے جو ‘کاک روچ جنتا پارٹی’ کی جانب سے ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔
ممبئی پولیس کے مطابق اس احتجاج کی باقاعدہ اجازت نہیں لی گئی تھی اور عمران خان سمیت 400 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔
