پشاور اسکول سانحہ، 30 بچوں اور خاتون ٹیچر کی ہلاکت کا مقدمہ درج

پشاور(قدرت روزنامہ) دیر کالونی اسکول میں چھت گرنے سے بچوں و خاتون ٹیچر کی ہلاکتوں اور 52 افراد کے زخمی ہونے کے واقعے کا مقدمہ تھانہ آغہ میر جانی شاہ میں درج کرلیا گیا ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق اسکول کی عمارت میں ناقص میٹریل استعمال کیا گیا تھا اور عمارت بوسیدہ ہونے کے باعث اس کی حالت غیر موزوں تھی۔ ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ اسکول کی دیواروں اور چھتوں کی خستہ حالی سے متعلق پہلے بھی شکایات کی گئی تھیں، تاہم بچوں کی جانب سے شکایات کے باوجود اسکول مالکان نے مبینہ طور پر کوئی شنوائی نہیں کی۔
ایف آئی آر کے مطابق حادثے کے دوران اسکول کی دوسری منزل پر قائم نرسری کلاس اور گراؤنڈ فلور کے کمروں کی چھتیں گر گئیں۔ اس واقعے میں 30 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی گئی، جبکہ 52 افراد زخمی ہوئے۔
مقدمے کے متن میں بتایا گیا ہے کہ اسکول کی اراضی 16 مرلے پر مشتمل ہے، جو وحید اور جاوید کی ملکیت ہے۔ یہ اراضی 2024 میں لیز پر حاصل کی گئی تھی، جس کے بعد وہاں عمارت تعمیر کی گئی۔ عمارت کی تعمیر اور اس میں استعمال ہونے والے میٹریل سے متعلق تفصیلات بھی مقدمے کا حصہ بنائی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق اسکول حادثے کا مقدمہ عمارت تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار، مالکان اور شیئر ہولڈرز کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں قتل بالسبب کی دفعہ 322 سمیت تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 148 اور 149 شامل کی گئی ہیں۔ پولیس نے واقعے کے مقدمے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔
