گاجر پسند نہیں تو انگور آزمائیں، آنکھوں کی صحت کے لیے ممکنہ فوائد

سنگاپور(قدرت روزنامہ)آنکھوں کی صحت کے لیے گاجر کے استعمال کا ذکر عام ہے، تاہم ایک نئی تحقیق میں انگور کھانے کے ممکنہ فوائد بھی سامنے آئے ہیں۔ سنگاپور میں ہونے والی اس تحقیق کے مطابق انگور میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس آنکھوں کی صحت سے متعلق بعض پیمانوں میں بہتری سے وابستہ پائے گئے، جس سے یہ پھل متوازن غذا کا مفید حصہ بن سکتا ہے۔
تحقیق کاروں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور غذائیں آنکھوں کی مجموعی صحت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔ تحقیق کے مصنف ڈاکٹر جنگ ایون کم کے مطابق یہ پہلا مطالعہ ہے جس میں انسانوں میں انگور کے استعمال اور آنکھوں کی صحت کے درمیان ممکنہ فائدہ مند تعلق کی نشان دہی کی گئی۔ ان کے بقول عمر رسیدہ افراد کے لیے یہ نتیجہ خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔
تحقیق سے متعلق رپورٹ جریدے ’فوڈ اینڈ فنکشن‘ میں شائع ہوئی۔ اس تجربے میں 34 بالغ افراد کو شامل کیا گیا، جنہیں مسلسل 16 ہفتوں تک روزانہ ناشتے میں ڈیڑھ کپ انگور یا پلیسیبو دیا گیا۔ مطالعے کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا تھا کہ نہ شرکاء کو معلوم تھا کہ انہیں کون سی چیز دی جارہی ہے اور نہ ہی تحقیق کرنے والوں کو اس حوالے سے آگاہی تھی۔
نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کی ٹیم نے جائزے کے دوران پایا کہ انگور کھانے والے شرکاء میں اینٹی آکسیڈنٹ سرگرمی بہتر ہوئی۔ اس کے علاوہ آنکھ کے ریٹینا میں میکیولر پگمنٹ میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ یہ پگمنٹ آنکھوں کو نیلی روشنی کے ممکنہ نقصان سے تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔
ڈاکٹر جنگ ایون کم کے مطابق روزانہ تقریباً دو سے تین مٹھی انگور کھانا صحت مند غذا کی عادت کا حصہ بن سکتا ہے اور طویل عرصے تک بینائی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہونے کا امکان ہے۔ تحقیق میں انگور کو ایک آسانی سے دستیاب پھل قرار دیا گیا ہے، جس کے استعمال سے آنکھوں کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
تاہم اس مطالعے میں شرکاء کی تعداد محدود تھی، اس لیے نتائج کو مزید تحقیق کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔ انگور متوازن غذا کا حصہ ہوسکتے ہیں، لیکن انہیں آنکھوں کے معائنے یا طبی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
