اسرائیلی کمپنی کا آن لائن اشتہارات کے ذریعے جاسوسی کا انکشاف، الجزیرہ کے درجنوں آلات ہیک
بغیر کسی لنک پر کلک کیے صارفین کے کمپیوٹر اور موبائل فونز میں جاسوسی سافٹ ویئر نصب کرنے کی ٹیکنالوجی استعمال، صحافیوں سمیت لاکھوں افراد کی نگرانی کے خدشات

دوحہ(قدرت روزنامہ)اسرائیل کی ایک ڈیجیٹل اشتہاری کمپنی کی جانب سے آن لائن اشتہارات کے ذریعے جاسوسی کرنے اور قطر کے معروف نشریاتی ادارے الجزیرہ کے درجنوں کمپیوٹرز میں جاسوسی سافٹ ویئر نصب کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے تحقیقی ادارے سٹیزن لیب کی تازہ تحقیقات کے مطابق اسرائیلی کمپنی ڈسکور ٹیک نے آن لائن اشتہارات کو صارفین کی نگرانی اور ان کے آلات میں جاسوسی سافٹ ویئر منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 2024ء اور 2025ء کے دوران الجزیرہ کے کم از کم 45 کمپیوٹرز اسرائیلی کمپنی کینڈیرو کے تیار کردہ جاسوسی سافٹ ویئر سے متاثر ہوئے۔ تحقیق کے مطابق اس کارروائی میں ایک انتہائی جدید طریقہ استعمال کیا گیا جسے زیرو کلک کہا جاتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی صارف کو مشکوک لنک کھولنے، فائل ڈاؤن لوڈ کرنے یا اشتہار پر کلک کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مخصوص اشتہار کے کسی ویب سائٹ یا ایپلی کیشن پر ظاہر ہونے سے ہی ہدف بنائے گئے آلے میں جاسوسی سافٹ ویئر منتقل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مذکورہ جاسوسی سافٹ ویئر کمپیوٹر میں محفوظ فائلوں، دستاویزات، ای میلز، پیغامات اور پاس ورڈز سمیت حساس معلومات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر کی اسکرین کی تصاویر لینے، کی بورڈ پر ٹائپ کیے جانے والے الفاظ ریکارڈ کرنے اور مائیکروفون یا ویب کیمرے کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
تحقیقات میں بتایا گیا کہ ڈسکور ٹیک کے اشتہارات دنیا بھر کی ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور 75 ہزار موبائل ایپلی کیشنز تک پہنچے۔ کمپنی کے اشتہاری نظام کے ذریعے لاکھوں صارفین کے آلات کی شناخت اور نگرانی ممکن بنائی گئی، تاہم ہر اشتہار دیکھنے والے صارف کے آلے میں جاسوسی سافٹ ویئر نصب ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ الجزیرہ کی تکنیکی ٹیم نے پہلی مرتبہ 2024ء میں اپنے بعض صحافیوں کے کمپیوٹرز پر غیر معمولی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا تھا، جس کے بعد مزید تحقیقات کے لیے سٹیزن لیب سے رابطہ کیا گیا۔
تفصیلی تکنیکی تجزیے کے نتیجے میں جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر اور اشتہاری نظام کے درمیان تعلق سامنے آیا۔ الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک نے اپنے ملازمین کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی نگرانی نہ صرف ان کی ذاتی سلامتی بلکہ عوام کے معلومات تک رسائی کے حق کے لیے بھی خطرہ ہے۔
الجزیرہ نے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اسرائیلی کمپنی کے اشتہارات امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اور عالمی فوجداری عدالت سے منسلک نیٹ ورکس پر بھی ظاہر ہوئے۔ تاہم ان اداروں کے کمپیوٹرز میں جاسوسی سافٹ ویئر نصب ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ اسرائیلی کمپنی کینڈیرو کو امریکی حکومت نے 2021ء میں سائبر جاسوسی کی سرگرمیوں کے باعث بلیک لسٹ کر دیا تھا۔ کمپنی کے تیار کردہ جاسوسی سافٹ ویئر کو ماضی میں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر شخصیات کی نگرانی کے لیے استعمال کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ تازہ انکشافات کے بعد گوگل نے ڈسکور ٹیک کو اپنی اشتہاری سروسز سے خارج کر دیا ہے، جبکہ دیگر اشتہاری پلیٹ فارمز نے بھی کمپنی کے خلاف اقدامات کیے ہیں۔
سائبر سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آن لائن اشتہارات کے ذریعے جاسوسی کی یہ تکنیک انٹرنیٹ صارفین کی پرائیویسی اور ڈیجیٹل سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ روایتی حفاظتی اقدامات کے باوجود صارفین کو ان کے علم کے بغیر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
