نئے صوبوں کا معاملہ ختم نہیں ہوا، یہ کام ہوکر رہے گا، شہزاد اقبال کا اہم شخصیت سے ملاقات کے بعد دعویٰ

نئے صوبے بنانے کیلئے چار یا چھ ماہ کی کوئی ڈیڈلائن نہیں، تمام سیاسی جماعتوں کو یہ بڑا فیصلہ بتدریج قبول کرنا ہوگا، صحافی شہزاد اقبال کی شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں گفتگو


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)صحافی اور تجزیہ کار شہزاد اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ ختم نہیں ہوا بلکہ یہ منصوبہ بدستور زیر غور ہے اور بالآخر اس پر پیش رفت ہوگی۔ جیو نیوز کے پروگرام میں میزبان شاہزیب خانزادہ نے شہزاد اقبال سے سوال کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی اور ریاستی اداروں کے درمیان اختلافات بڑھتے ہوئے نظر آرہے تھے۔
ایک جانب نئے انتظامی یونٹس بنانے کی بات کی جارہی تھی جبکہ دوسری جانب پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے قراردادیں منظور کررہی تھی۔ شاہزیب خانزادہ نے سوال کیا کہ حالیہ سیاسی پیش رفت کے بعد پیپلز پارٹی اب اداروں کے قریب نظر آرہی ہے اور بعض اہم معاملات میں حکومت کا ساتھ بھی دے رہی ہے، تو کیا نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ ختم ہوگیا ہے یا یہ معاملہ اب بھی موجود ہے؟ سوال کے جواب میں شہزاد اقبال نے کہا کہ یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران میڈیا میں نئے صوبوں کے فوائد، نقصانات اور ممکنہ طریقہ کار پر مسلسل بحث ہوتی رہی ہے۔
شہزاد اقبال نے بتایا کہ ان کی اسی روز ایک اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی، جس کے دوران انہوں نے سوال کیا کہ کیا حالیہ سیاسی حالات کے باعث نئے صوبوں کا معاملہ پس پشت چلا جائے گا۔


ان کے مطابق اہم شخصیت نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ نئے صوبوں کا قیام ایک بڑا قدم ہے جسے تمام سیاسی جماعتوں کو بتدریج قبول کرنا ہوگا، تاہم اس کیلئے چار یا چھ ماہ جیسی کوئی حتمی ڈیڈلائن مقرر نہیں کی گئی۔
شہزاد اقبال نے اہم شخصیت کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: یہ کام ہونا ہے، لیکن اسے بتدریج اور تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کو ملک میں گورننس کے مسائل کے ممکنہ حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سوچ کے حامیوں کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس بڑے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
شاہزیب خانزادہ کے ایک سوال کے جواب میں شہزاد اقبال نے مزید کہا کہ ان کی معلومات اور ذاتی جائزے کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے پر کسی مثبت اور منطقی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں، کیونکہ دونوں رہنما جانتے ہیں کہ ملک کو موجودہ طرزِ حکمرانی کے تحت چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے اس معاملے پر اختلاف سامنے آیا تو دونوں جماعتوں کے درمیان قائم بہتر تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔
سندھ کی ممکنہ انتظامی تقسیم سے متعلق شہزاد اقبال نے کہا کہ ایک تجویز یہ بھی زیر غور آسکتی ہے کہ نئے یونٹس کو شمالی سندھ، جنوبی سندھ اور وسطی سندھ کا نام دیا جائے۔ اس طرح سندھ کا نام اور تاریخی شناخت برقرار رہیں گے اور تقسیم کا تاثر کم کیا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کو صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن یا بھٹو اور شریف خاندانوں کے مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
دونوں جماعتوں میں ایسے دیگر رہنما بھی موجود ہیں جنہیں موجودہ سیاسی نظام میں وزیراعلیٰ بننے کا موقع نہیں ملتا۔ شہزاد اقبال کے مطابق مزید صوبے قائم ہونے کی صورت میں نئی سیاسی قیادت کو سامنے آنے، وزیراعلیٰ بننے اور اپنی کارکردگی دکھانے کے مواقع مل سکتے ہیں، جس سے انتظامی معاملات اور گورننس میں بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے صوبے بننے سے سیاسی قیادت کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور وزارتِ اعلیٰ یا صوبائی قیادت صرف چند بڑے سیاسی خاندانوں تک محدود نہیں رہے گی۔
نئے صوبے بنانے کا آئینی طریقہ کیا ہے؟
پاکستان میں نیا صوبہ صرف حکومتی اعلان یا انتظامی حکم کے ذریعے قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے آئین میں ترمیم ضروری ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت آئینی ترمیم کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت سے منظور ہونا ہوتا ہے۔
اگر مجوزہ ترمیم سے کسی موجودہ صوبے کی حدود تبدیل ہوتی ہوں تو متاثرہ صوبے کی اسمبلی کے کم از کم دو تہائی اراکین کی منظوری بھی لازمی ہے۔
اس لیے سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا یا بلوچستان کو تقسیم کرکے نیا صوبہ بنانے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی حمایت کے بغیر آئینی عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔ آئینِ پاکستان
نئے صوبوں کی بحث نئی نہیں
پاکستان میں جنوبی پنجاب، بہاولپور اور ہزارہ صوبوں کے مطالبات کئی دہائیوں سے سامنے آتے رہے ہیں۔ قومی اسمبلی نے 2012 میں جنوبی پنجاب کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی سے آئینی طریقہ کار کے تحت پیش رفت کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں بھی جنوبی پنجاب کے قیام سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیم زیرِ بحث آ چکی ہے۔ اس تجویز میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں، سینیٹ میں نمائندگی، عدالتی ڈھانچے اور دیگر آئینی معاملات میں تبدیلیاں شامل تھیں، تاہم بل کو مالی، آئینی اور انتظامی اثرات کے مزید جائزے کے لیے وزارتِ قانون کے سپرد کیا گیا تھا۔
حالیہ عرصے میں بھی مختلف حکومتی اور سیاسی شخصیات نے نئے انتظامی یونٹس کو بہتر حکمرانی کا ممکنہ حل قرار دیا ہے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے ہر صوبے میں مزید انتظامی یونٹس بنانے کی حمایت کی، جبکہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے واضح کیا تھا کہ اس حوالے سے کوئی باقاعدہ حکومتی منصوبہ حتمی شکل نہیں پا سکا۔
نئے صوبوں کے قیام کی صورت میں صرف سرحدوں کا تعین ہی کافی نہیں ہوگا۔
قومی مالیاتی کمیشن میں حصے، سرکاری اثاثوں اور قرضوں کی تقسیم، اسمبلی کی نشستیں، بیوروکریسی، پولیس، ہائی کورٹ اور نئے صوبائی دارالحکومت جیسے معاملات بھی طے کرنا ہوں گے۔
واضح رہے کہ پروگرام میں بیان کی گئی معلومات شہزاد اقبال کی ایک نام ظاہر نہ کی گئی شخصیت سے ملاقات اور ان کے سیاسی تجزیے پر مبنی ہیں۔ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق تاحال کوئی حتمی سرکاری منصوبہ، آئینی ترمیم یا باقاعدہ مدت سامنے نہیں آئی۔

WhatsApp
Get Alert