وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری کیٹی زکریا کا وکالت کا امتحان پاس نہ کرنے کا اعتراف

واشنگٹن )(قدرت روزنامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری کیٹی زکریا کی قانونی قابلیت اور پیشہ ورانہ تجربے پر سوالات اٹھنے کے بعد عہدے کے لیے ان کی اہلیت شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔

معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب وائٹ ہاؤس میں اپنی پہلی ہی پریس بریفنگ کے دوران کیٹی زکریا کو بار بار اٹکنے اور سوالات کے غیر تسلی بخش جوابات دینے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

اس دوران جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے امریکا کی کس ریاست سے بار کا امتحان پاس کیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا، ’جب میں چین منتقل ہوئی تھی‘۔

تاہم امریکی میڈیا کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ 2011 میں پیپرڈائن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کیٹی زکریا کا نام امریکا کی تمام 50 ریاستوں یا ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں سے کسی بھی بار ایسوسی ایشن کے ریکارڈ میں بطورِ وکیل درج نہیں ہے۔

تنقید میں اضافے کے بعد کیٹی زکریا نے اعتراف کیا ہے کہ وہ پہلی کوشش میں بار کا امتحان پاس نہیں کر سکی تھیں اور انہوں نے دوسری بار یہ امتحان دیا ہی نہیں۔

انہوں نے خود کو وکیل کہلاوانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے قانونی شعبے کے افراد سے مشورہ کیا تھا جنہوں نے انہیں بتایا تھا کہ خود کو وکیل قرار دینا اور قانونی تجزیہ فراہم کرنا قابلِ قبول ہے، بشرطیکہ وہ باقاعدہ ’قانونی مشورہ‘ نہ دیں۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کیٹی زکریا کو اعلانیہ وکیل قرار دے چکے ہیں، تاہم بار امتحان میں ناکامی اور بریفنگ کے دوران ناقص کارکردگی کے بعد ان کی اس اہم ترین عہدے پر تعیناتی پر امریکی میڈیا میں بحث چھڑ گئی ہے۔

WhatsApp
Get Alert