پستے کھانے کا بہترین فائدہ سامنے آگیا

لاہور(قدرت روزنامہ)پستے صرف دیکھنے میں خوبصورت نہیں ہوتے بلکہ ان کا ذائقہ بھی بہترین ہوتا ہے۔

سبز رنگ کی اس گری کا ذائقہ ہلکا میٹھا ہوتا ہے اور مانا جاتا ہے کہ ہزاروں سال سے انسان اسے کھا رہے ہیں۔

اب دریافت ہوا ہے کہ اسے کھانے سے رات کو اچھی نیند کے حصول میں مدد ملتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھانے والی اہم وجہ دریافت

کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ دیکھا گیا تھا کہ پستے کھانے سے نیند پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

یہ مزیدار گری ٹرپٹوفان، فائٹومیلاٹونین اور دیگر اجزا سے بھرپور ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ میگنیشم اور وٹامن بی 6 جیسے اجزا بھی ہوتے ہیں جو ٹرپٹوفان کو سیروٹونین اور میلاٹونین میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

بیشتر افراد میلاٹونین سپلیمنٹس کو اچھی نیند کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

روزانہ اخروٹ کھانا صحت مند رکھنے میں مددگار، تحقیق

محققین نے دریافت کیا کہ پستے جسم کے اندر ایسے متعدد حیاتیاتی افعال پر اثر انداز ہوتے ہیں جو نیند سے جڑے ہوتے ہیں۔

تحقیق میں یہ تو واضح نہیں کیا گیا کہ کتنی مقدار میں پستے کھانے سے نیند کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

مگر محققین نے بتایا کہ پستے کھانے سے کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا بلکہ مجموعی صحت کو ہی فائدہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق نتائج جرنل نیوٹریشن ریسرچ ریویوز میں شائع ہوئے۔

تنہائی سے صحت پر مرتب ہونے والے سنگین اثر کا انکشاف

خیال رہے کہ اس گری میں متعدد اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو جسم کے مختلف حصوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

پستے کی 28 گرام مقدار کھانے سے جسم کو 159 کیلوریز، 8 گرام کاربوہائیڈریٹس، 3 گرام فائبر، 6 گرام پروٹین، 13 گرام چکنائی، پوٹاشیم، فاسفورس، وٹامن بی 6، کاپر، وٹامن بی 1 اور Manganese جیسے اجزا ملتے ہیں۔

اس گری کی خاص بات وٹامن بی 6 ہے جو متعدد جسمانی افعال بشمول بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert