میر قمبر مینگل کے گھر پر حملے کی ایوان میں شدید مذمت، بلوچوں کو لاحاصل جنگ میں دھکیلنے والوں کا روایات سے تعلق نہیں، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

صوبے کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی عمارتوں کے فوری سیکیورٹی اور ڈھانچہ جاتی آڈٹ کے احکامات جاری


حکومت مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے، اسما جتک کے متاثرہ خاندان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان اسمبلی کے جاری اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی میر جہانزیب مینگل اور وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے میر قمبر مینگل کے گھر پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے رکن اسمبلی میر جہانزیب مینگل نے کہا کہ میر قمبر مینگل کے گھر پر فتن الہندوستان کے سہولت کاروں نے حملہ کیا ہے اور ایسے عناصر کا بلوچیت اور بلوچی روایات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر فتن الہندوستان کے سہولت کاروں میں غیرت ہے تو سامنے آ کر مقابلہ کریں۔ انہوں نے وزیراعلی بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں۔ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے میر قمبر مینگل کے گھر پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ یہ کوئی بلوچیت نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی ہے۔ ان دہشت گردوں کا ہماری روایات سے کوئی تعلق نہیں ہے، جو قوم کو اور بالخصوص بلوچوں کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔وزیراعلی بلوچستان نے اسمائے جتک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ وہ متاثرہ فیملی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔تعلیمی اداروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلی میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی عمارتوں کا فوری جائزہ لینے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تمام تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا باقاعدہ سیکیورٹی اور ڈھانچہ جاتی آڈٹ کرایا جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی اجازت ہو تو مدارس کی عمارتوں کی سیکیورٹی کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert