بلوچستان حکومت کی مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ جاری، مالیاتی نظم و نسق اور 23 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی

ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اندرونی کنٹرول سسٹم بہتر بنانے کی سفارش


سرکاری واجبات اور واجب الادا رقوم کی وصولی کے لیے متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کو فوری و مؤثر اقدامات کی ہدایت
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان حکومت کے مالی سال 2024-25کے آڈٹ کے دوران 37 ارب 75 کروڑ 61 لاکھ روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں کا انکشاف جبکہ آڈٹ کے نتیجے میں 23 ارب 38 کروڑ 10 لاکھ روپے کی وصولیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔بلوچستان حکومت کے مالی سال 2024-25کے بجٹ کی آڈٹ رپورٹ کے مطا بق آڈٹ کے دوران149 کیسز میں 11 ارب 88 کروڑ 36 لاکھ 15 ہزار روپے کے بے قاعدہ اخراجات سامنے آئے،28 کیسز میں 21 ارب 48 کروڑ 92 لاکھ 27 ہزار روپے کی قابل وصول رقم اور 31 کیسز میں ایک ارب 89 کروڑ 16 لاکھ 84 ہزار روپے کی زائد ادائیگیوں ، 6 کیسز میں ریکارڈ پیش نہ کرنے، 2 کیسز میں 5 کروڑ 55 لاکھ 27 ہزار روپے کے مشکوک اخراجات، 6 کیسز میں 39 کروڑ 11 لاکھ 98 ہزار روپے کے سرکاری نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران حکومت بلوچستان کی مجموعی وصولیاں 918 ارب 331 ملین روپے رہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں 866 ارب 560 ملین روپے کے اخراجات کیے گئے، جس کے نتیجے میں 51 ارب 771 ملین روپے کی بچت ہوئی۔رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے ترقیاتی سرگرمیوں پر اخراجات مجموعی ترقیاتی مختص رقم کا صرف 36 فیصد رہے۔آڈٹ میں پی ایس ڈی پی میں رقوم کی تخصیص کے حوالے سے متعدد بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق متعدد جاری اسکیموں کی موجودگی کے باوجود مزید اسکیمیں شامل کرنے سے قومی خزانے پر دباو ¿ بڑھا اور جاری اسکیمیں بھی کم توجہ کا شکار ہوئیں۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق اس طرز عمل کے نتیجے میں 198 اسکیمیں ترک یا محدود ہوئیں جن کی لاگت 17 ارب 204 ملین روپے تھی۔ رپورٹ میں اس کی وجوہات میں غلط ترجیحات اور سیاسی بنیادوں پر رقوم کی تخصیص کو قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں وسائل کے ضیاع کی نشاندہی ہوئی۔رپورٹ کے مطابق 134 ترقیاتی اسکیموں میں تاخیر ہوئی، جس کے باعث کئی ماہ سے کئی سال تک کا وقت کا زائد خرچ سامنے آیا، جبکہ لاگت میں 12 ارب 672.964 ملین روپے کا اضافہ ہوا۔آڈٹ کے مطابق ان تاخیر کے باوجود حکومت نے جنرل کنڈیشنز آف کنٹریکٹ کی شق 70.1 کے تحت ٹھیکیداروں، سپلائرز اور وینڈرز پر 4 ارب 764.255 ملین روپے کے جرمانے یا لیکویڈیٹڈ ڈیمیجز عائد نہیں کیے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مالی سال 2024-25 میں ترقیاتی فنڈز کی مجموعی مختص رقم میں زیادہ تر شعبوں کو صرف ایک سے دو فیصد حصہ ملا۔ ان شعبوں میں ترقیاتی اسکیموں کی عدم موجودگی ان کی پیش رفت اور ترقی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔دوسری جانب پی ایس ڈی پی کی نئی اسکیموں کی مجموعی رقم کا بڑا حصہ صرف چار محکموں کو دیا گیا۔ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، محکمہ مواصلات و تعمیرات، محکمہ بلدیات اور محکمہ آبپاشی کو نئی اسکیموں کی مجموعی مختص رقم کا 72 فیصد فراہم کیا گیا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کے محکموں اور اداروں میں مناسب اندرونی کنٹرول سسٹم نہ ہونے کے باعث سرکاری وسائل کے استعمال میں متعدد مسائل سامنے آئے۔رپورٹ کے مطابق ان مسائل میں سرکاری وصولیوں میں اضافے کے لیے ناکافی کوششیں اور کمزور نظام، اسٹاک اکاو ¿نٹس کی نامناسب یا عدم دیکھ بھال، سرکاری واجبات کی عدم وصولی، اسٹورز کی غیر شفاف خریداری، ترقیاتی اسکیموں پر مقررہ طریقہ کار پر عملدرآمد نہ کرنا، منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر، ناکافی اور بروقت فنڈنگ نہ ملنے اور کمزور عملدرآمد کے باعث وقت اور لاگت میں اضافہ شامل ہے۔آڈٹ کے مطابق کمزور بجٹ منصوبہ بندی، وینڈرز کے بجائے ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران (DDOs) کو ادائیگیاں، سرکاری رقوم کا کمرشل بینکوں میں برقرار رکھا جانا، سرکاری اثاثوں کا ناقص انتظام، ایس اے پی میں Asset Module کی عدم موجودگی، معاہداتی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی، ریکارڈ پیش نہ کرنا، بے قاعدگیوں کا بار بار سامنے آنا اور ٹھیکیداروں و وینڈرز کو زائد ادائیگیاں بھی اہم مسائل میں شامل ہیں۔آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ریکارڈ پیش نہ کرنا ایک سنگین بے قاعدگی ہے جو آڈٹ کی کارروائی میں رکاوٹ بنتی ہے، اس لیے متعلقہ پرنسپل اکاو ¿نٹنگ افسران (PAOs) کو ریکارڈ پیش نہ کرنے کے ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنی چاہیے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری نقصان اور بے قاعدہ اخراجات کی ذمہ داری کے تعین کے لیے انکوائریاں کی جائیں اور مضبوط اندرونی کنٹرول و نگرانی کے ذریعے ایسی بے قاعدگیوں کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔آڈٹ نے متعلقہ پرنسپل اکاو ¿نٹنگ افسران کو زائد ادا کی گئی رقوم اور سرکاری واجبات کی وصولی کے لیے مو ¿ثر اقدامات کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔رپورٹ میں ریونیو حاصل کرنے والے محکموں کے پرنسپل اکاو ¿نٹنگ افسران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ واجب الادا سرکاری وصولیوں کی بروقت وصولی کے لیے سنجیدہ اور مو ¿ثر کوششیں کریں۔

WhatsApp
Get Alert