سیکیورٹی اداروں کی مؤثر کارروائی، 14 اگست کو کوئٹہ کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا، “ہیروف تھری” کی منصوبہ بندی ناکام

چاغی سے لایا جانے والا بھاری اسلحہ و بارود برآمد، دو دہشت گرد گرفتار، معاون نیٹ ورکس کا سراغ لگا لیا گیا


ریاست اور آئین کو تسلیم کرنے والے نوجوانوں کے لیے واپسی کے دروازے کھلے ہیں، حکومتی ترجمانوں کی مشترکہ پریس کانفرنس
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان حکومت کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی اداروں نے ہیروف تھری کے تحت 14اگست کو کوئٹہ میں دھماکوں کی منصوبہ بندی ناکام بناتے ہوئے 2 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ حکام کے مطابق ان کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ، گولہ بارود اور دستی بم برآمد ہوئے ہیں۔یہ بات وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے کوئٹہ میں نیوز کانفرنس کے دوران بتائی۔ شاہد رند کا کہنا تھا کہ اگست میں بلوچستان میں دہشت گردی کا خطرہ زیادہ تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلیجنس ایجنسیوں، فرنٹیئر کور اور کانٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کی کوششوں سے ایسے منصوبوں کو ناکام بنایا گیا۔ ان کے مطابق اس دوران نیاز جتوئی اور حبیب الرحمن نامی دو افراد کو گرفتار کیا گیا جو اگست میں ہیروف تھری کے نام سے حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔واضح رہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)نے 25اور 26اگست 2024کی درمیانی شب بلوچستان میں آپریشن ہیروف، اسی طرح 31جنوری 2026کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دس سے زائد شہروں میں ہیروف ٹو کے نام سے مربوط حملے کیے تھے ان حملوں میں درجنوں عام شہری اور سکیورٹی اہلکاروں کی موت ہوئی تھی۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کا منصوبہ تھا کہ وہ 14اگست (یوم آزادی)کو پورے کوئٹہ میں دھماکے کریں گے لیکن سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی سے کوئٹہ ایک بڑے سانحے سے بچ گیا۔ان کے مطابق برآمد ہونے والے اسلحے میں ایم ایم جی، گولہ بارود اور دستی بم شامل ہیں جو چاغی سے کوئٹہ لایا جا رہے تھے۔ ان کے بقول اسلحے کی منتقلی میں بعض ٹرانسپورٹرز بھی ملوث تھے جن کی شناخت کر لی گئی ہے اور اسلحہ لانے کے لیے استعمال ہونے والی بسیں بھی قبضے میں لی گئی ہیں۔اس موقع پر دونوں گرفتار افراد کے ویڈیو بیانات بھی دکھائے گئے۔ نیاز اللہ جتوئی نے اپنا تعلق کوئٹہ کے علاقے کیچی بیگ سریاب سے بتایا۔ ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ سکندر نامی شخص نے انہیں فون کر کے کچھ سامان اپنے گھر پر رکھنے کو کہا تھا۔ بعد میں ایک اور شخص نے رابطہ کر کے سامان وصول کرنے کی بات کی۔دوسرے گرفتار شخص حبیب الرحمن نے اپنا تعلق مستونگ کے علاقے کرد گاپ سے بتایا۔ ان کے مطابق حافظ ابراہیم نامی شخص نے فون کر کے انہیں دو کارٹن شاپنگ کا سامان کوئٹہ پہنچانے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد انہوں نے سمیع اللہ سے رابطہ کیا اور سامان کوئٹہ منتقل کروایا۔ پھر انہوں نے نیاز جتوئی کو اطلاع دی کہ سامان پہنچ گیا ہے۔سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کی خبر کے مطابق اسلحے کی منتقلی میں سہولت کاری کے الزام میں گرفتار حبیب الرحمن عرف منشی نے اعتراف کیا کہ انہیں یہ اسلحہ دالبندین سے کوئٹہ پہنچانے کے عوض 35ہزار روپے ملے۔شاہد رند نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف صوبے میں کارروائیاں جاری ہیں۔ انٹیلی جنس اطلاعات پر ہونے والی ان کارروائیوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)سے تعلق رکھنے والے چھ افراد کے علاوہ دو خودکش خواتین حملہ آوروں کو کو بھی گرفتار کیا گیا ہے تاہم انہوں نے خواتین کی شناخت، گرفتاری کے مقام یا مبینہ منصوبوں کی تفصیل نہیں بتائی۔شاہد رند کے مطابق کومبنگ آپریشنز میں کوئٹہ کے قریب شعبان اور مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ سے کالعدم تنظیم کے دوکمانڈر بھی گرفتار کیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف دہشت گرد مارے یا گرفتار نہیں ہوئے بلکہ کچھ نے خود کو رضا کارانہ طور پر بھی حکومت کے حوالے کیا ہے۔نیوز کانفرنس میں پنجگور سے تعلق رکھنے والے شہاب رشید کی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔ اس میں انہوں نے کہا کہ وہ 2021میں فیس بک پر ایک اکائونٹ سے متاثر ہوئے۔ اس کے بعد ان کا میل جول بی ایل اے سے وابستہ افراد سے شروع ہوا اور انہوں نے بعض مقامات پر اس گروہ کے لیے راشن بھی پہنچایا۔ان کا کہنا تھا کہ بعد میں انہیں اپنے اس عمل پر پشیمانی ہوئی اور انہوں نے تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق انہوں نے پنجگور میں خود کو حکام کے حوالے کیا۔شاہد رند کے مطابق شہاب نے خود کو اپنی فیملی کے ذریعے خود کورضا کارانہ طور پر حکومت کے حوالے کیا۔ وہ 2021میں ایک پڑوسی ملک گئے جہاں انہوں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے کیمپ میں تربیت حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ شہاب کو آن لائن ورغلایا گیا تھا اور حکومت انہیں پرامن زندگی کا موقع دینے پر غور کر رہی ہے۔شاہد رند نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ شہاب اپنی زندگی کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔ دوسرے نوجوانوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ ایک ایسی جنگ کا حصہ بنے ہوئے ہیں جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔انہوں نے پہاڑوں پر جانے والے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اہل خانہ، سیاسی رہنمائوں، منتخب نمائندوں یا ضلعی انتظامیہ کے ذریعے حکام سے رابطہ کریں۔وزیراعلیٰ کے میڈیا معاون کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور حکومت کا بہت واضح موقف ہے کہ جو بھی نوجوان بھٹک کر پہاڑوں کی طرف چلے گئے ہیں اگر وہ پاکستان کی ریاست اور آئین کو تسلیم کرتے ہوئے واپس آنا چاہیں ان کے لیے دروازے کھلے ہیں ۔ ریاست نے ان کے لیے کبھی دروازے بند نہیں کیے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تقریبا 90افراد حراستی مراکز میں ہیں جن کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے بلوچستان میں فیس لیس کورٹس (خفیہ عدالتی نظام)کے قیام کی قانون سازی کی گئی ہے جہاں ان کے خلاف سماعت چل رہی ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد قانون کے مطابق انہیں سزا ملے۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ حراستی مراکز میں موجود ان افراد کی بحالی پر بھی کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ کچھ عرصہ پہلے خدیجہ بلوچ کی بحالی کے بعد انہیں ان کے اہل خانہ کے پاس بھیجا گیا۔محمد حمزہ شفقات کے مطابق گزشتہ دو برس میں صوبائی حکومت نے سکیورٹی اور انتظامی معاملات سے متعلق تقریبا 16نئے قوانین منظور کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریبا 17نئے ادارے اور محکمے بھی بنائے گئے ہیں۔ ان میں بھتہ خوری کی روک تھام کا خصوصی سیل، بلوچستان انٹیگریٹڈ سکیورٹی آرکیٹیکچر(بیسا)، صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سیل (پی آئی ایف ٹی اے سی)، سینٹر آف ایکسیلنس اور حراستی مراکز شامل ہیں۔ان کے بقول یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کابینہ، اسمبلی، پولیس، سکیورٹی ادارے اور پوری سول انتظامیہ ایک پیج پر کام کر رہے ہیں۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے مزید بتایا کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام پر بھی کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق تقریبا 11لاکھ غیر قانونی غیر ملکیوں کو ملک سے نکالا جا چکا ہے جبکہ مختلف غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف تقریبا 50ہزار کارروائیاں کی گئی ہیں۔ ان میں بجلی چوری، منشیات، غیر قانونی سرحدی آمدورفت اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے استعمال کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت کے مطابق رواں سال کانٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی)نے 33سو سے زائد انٹیلیجنس بنیاد پر کارروائیاں کیں۔ ان میں تین سو سے زیادہ مشتبہ افراد گرفتار ہوئے جبکہ سینکڑوں مارے بھی گئے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ایک واقعے میں پولیس کے دو اہلکار شہید ہوئے جس کے بعد اس سال بلوچستان پولیس کے شہید ہونے والے اہلکاروں کی تعداد 100سے بڑھ گئی ہے۔عمران شوکت نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سکیورٹی صورتحال کے بارے میں باقاعدگی سے بریفنگ لیتے ہیں۔ ان کے مطابق سی ٹی ڈی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے فنڈز، حفاظتی انتظامات اور تکنیکی آلات کی فراہمی پر بھی کام کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں وفاقی ادارے اور دیگر سکیورٹی ادارے بھی صوبائی پولیس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔شاہد رند نے کہا کہ بعض اوقات خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال کا موازنہ کیا جاتا ہے، جبکہ بلوچستان حکومت نے وفاق کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں جن میں صوبائی سطح پر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایکشن پلان بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور اس وقت تک اپنی کوششیں نہیں روکے گی جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ان کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا موقف واضح ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے اپنی سیاست کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert