خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف اپوزیشن کا مشترکہ آئینی جدوجہد کا اعلان
آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ

تمام مسائل کا حل پرامن سیاسی جدوجہد، آئینی بالادستی اور باہمی مذاکرات میں مضمر ہے، پشاور ہائیکورٹ میں مشترکہ پریس کانفرنس
پشاور/ کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ جدوجہد کا اعلان کرتے ہوئے آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، عوامی مینڈیٹ کے تحفظ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرنے اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا آپشن بھی موجود ہے، تاہم اپوزیشن پرامن اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے‘ان خیالات کا اظہارقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی ‘بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل‘اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ عباس‘پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیریسٹر گوہر خان ‘ساجد ترین ایڈوکیٹ اور دیگر نے پشاور ہائی کوٹ میں کیس دائر کرنے سے قبل پشاور ہائی کورٹ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں۔ ان کے بقول صوبے کی منتخب حکومت کے خاتمے اور گورنر راج سے متعلق اقدامات نے کئی آئینی سوالات کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جانا چاہیے اور ملک میں ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن میں پارلیمنٹ کو فیصلہ سازی کا حقیقی مرکز بنایا جا سکے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آئین کی بالادستی، متنازع آئینی ترامیم کی واپسی، پارلیمنٹ کے بااختیار ہونے اور شفاف انتخابات کے لیے آزاد کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے جاری ہیں اور آل پارٹیز کانفرنس میں انہیں شرکت کی دعوت دی جائے گی تاکہ مستقبل کی مشترکہ حکمت عملی طے کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی رہنما کو قیدی سے ملاقات کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقاتوں پر پابندی اور مبینہ دباؤ کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ سیاسی مسائل کو مذاکرات اور جمہوری طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ محمود خان اچکزئی نے خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بارے میں بھی وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بتایا جائے کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے صوبائی وزرا، ارکان اسمبلی اور کارکنوں کے مبینہ طور پر لاپتا ہونے سے متعلق اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود شہریوں کے آئینی حقوق اور قانونی تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن تشدد اور تصادم کا راستہ اختیار نہیں کرے گی بلکہ اپنے مطالبات کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے تو اپوزیشن بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ جو لوگ خود کو آئین کا خالق کہتے ہیں، وہی آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرکے پورے صوبے پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، حالانکہ بلوچستان میں بھی طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، لیکن وہاں حالات بہتر ہونے کے بجائے پورا صوبہ بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسے اقدامات سے مسائل حل ہو سکتے ہیں؟ اختر مینگل نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ کو اٹھایا گیا ہے جبکہ اسپیکر اور وزرا کے غائب ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے آنے والے افراد ایوانوں میں بیٹھے ہیں اور ایسا نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں لاقانونیت عروج پر ہے اور حکمرانوں سے نظام نہیں چل رہا تو انہوں نے ایک صوبے پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان کے بقول حکومتی وزرا بھی نظام کی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مینڈیٹ چوری کرنے والے اعتراضات اور احتجاج کی آواز دبانا چاہتے ہیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے غربت میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ صورت حال پر خاموش رہنا پاکستان سے محبت کے تقاضوں کے منافی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالات جیسے بھی ہوں، وہ اپنے مؤقف اور جدوجہد پر قائم رہیں گے۔ پاکستانیسیاحتدوسری جانب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے والی درخواستیں 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنی درخواست میں 11 اکتوبر 2026ئ کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کرنے کی استدعا کی ہے۔بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کے بعد ضرورت پڑنے پر معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں بھی لے جایا جائے گا۔ ان کے مطابق آئینی عدالت میں براہ راست درخواست دائر کرنے کا راستہ بھی موجود ہے، تاہم پہلے ہائیکورٹ سے رجوع کرنا بہتر سمجھا گیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئین کی بالادستی، عوامی مینڈیٹ کے تحفظ، صوبائی حقوق اور جمہوری اداروں کی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
