کھیلوں کے فروغ کے لیے ملک بھر میں ٹیلنٹ کو بلاامتیاز مواقع دیں گے، وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایشین گیمز میں میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں نے اپنی محنت اور لگن سے پاکستان کا نام روشن کیا، تاہم کھیلوں کے میدان میں مزید کامیابیوں کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کو تربیت، وسائل اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔
اسلام آباد میں ایشین گیمز میں میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کھلاڑیوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ انہوں نے 2 چاندی اور 8 کانسی کے تمغے حاصل کیے۔ یہ کامیابی کھلاڑیوں کی محنت، لگن اور ان کے والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہے، لیکن پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے ہر حصے میں موجود باصلاحیت نوجوانوں کی بلاامتیاز حوصلہ افزائی کی جائے گی اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو مالی معاونت کے چیک دینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا حق ہے، کوئی احسان نہیں۔
وزیراعظم نے ماضی میں پاکستانی کھلاڑیوں کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہاکی میں ایک وقت پاکستان کا دنیا بھر میں طوطی بولتا تھا۔ حسن سردار، شہناز شیخ اور اختر رسول جیسے کھلاڑیوں نے ملک کا نام روشن کیا، جبکہ اسکواش میں جہانگیر خان اور جان شیر خان کی کامیابیاں کھیلوں کی تاریخ کا سنہرا باب ہیں۔ کرکٹ سمیت دیگر کھیلوں میں بھی پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کھلاڑی کرکٹ اور ہاکی سمیت مختلف کھیلوں میں آگے بڑھ رہی ہیں، جبکہ فٹبال، والی بال، کبڈی اور دیگر کھیلوں میں بھی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے بہتر تربیت، مناسب وسائل اور اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ماضی میں پی آئی اے، پاکستان ریلوے اور واپڈا سمیت مختلف سرکاری ادارے نمایاں کھلاڑیوں کی سرپرستی کرتے اور انہیں کھیلوں کے لیے سہولتیں فراہم کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پی ڈی ایم حکومت کے دور میں اس نظام کی بحالی کے مطالبے پر انہوں نے فوری طور پر احکامات جاری کیے تھے۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ جلد ایک اسپورٹس کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں وفاق اور صوبوں کے متعلقہ حکام، ماضی کے نامور کھلاڑیوں اور موجودہ نمایاں کھلاڑیوں کو مدعو کیا جائے گا۔ کانفرنس میں کھیلوں کے فروغ اور ایسے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوگا جن کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کا نام دوبارہ روشن کیا جا سکے۔
