روزانہ ایک سیب کھانا دماغی صحت کو درست رکھنے میں مددگار

سڈنی (قدرت روزنامہ)ایسا کہا جاتا ہے کہ ایک سیب روزانہ ڈاکٹر کو آپ سے دور رکھے۔
ایسا کس حد تک درست ہے، یہ ایک طویل بحث ہے مگر ایک سیب یا کسی بھی پھل کو روزانہ کھانا ڈپریشن اور انزائٹی کو ضرور آپ سے دور رکھ سکتا ہے۔
یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق میں ساڑھے 6 ہزار سے زائد بچوں اور نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا۔
بیشتر افراد کی پسندیدہ غذا جو دماغی نقصان اور فالج کا خطرہ بڑھاتی ہے
ان کو 3 سال تک تحقیق کا حصہ بنائے رکھا گیا۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ روزانہ کسی بھی پھل کی اضافی مقدار کے استعمال سے ڈپریشن کی علامات سے متاثر ہونے کا خطرہ 13 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
اسی طرح انزائٹی ڈس آرڈرز کی علامات سے متاثر ہونے کا خطرہ 7 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت ہوا کہ میٹھے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس کے زیادہ استعمال سے ڈپریشن اور انزائٹی سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ایک عام عادت جو جوڑوں کے امراض کا شکار بنا دیتی ہے
یہ خطرہ لڑکوں میں زیادہ مضبوط نظر آیا، خاص طور پر انزائٹی کا خطرہ زیادہ بڑھتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ غذائی انتخاب جسمانی صحت سے ہٹ کر اہم ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ایک سیب کھانے سے ڈپریشن کی روک تھام ہو جاتی ہے یا سافٹ ڈرنکس انزائٹی کا باعث بنتی ہیں، دماغی صحت اس سے زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔
پستے کھانے کا بہترین فائدہ سامنے آگیا
ان کا کہنا تھا کہ مگر ہم جو کچھ کھاتے ہیں وہ زندگی کا ایک حصہ ہوتا ہے اور دماغی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے، تو یہ نتائج بہت اہم ہیں۔
محققین کے مطابق ان نتائج سے جوان افراد میں دماغی امراض کی روک تھام میں مدد ملے گی جس کے لیے ضروری ہے کہ صحت کے لیے مفید غذاؤں کو رسائی کو زیادہ آسان بنانا چاہیے۔
