کمر درد اور جھکی ہوئی کمر ہڈیوں کی خاموش بیماری کی علامت

لاہور(قدرت روزنامہ)انسان کے جسم میں ہڈیاں ایک مضبوط ڈھانچے کی مانند ہوتی ہیں، لیکن ایک ایسی بیماری بھی ہے جو بغیر کسی واضح علامت کے ہڈیوں کو اندر سے کھوکھلا اور کمزور کر دیتی ہے۔ اس بیماری کو آسٹیوپوروسس کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کا اکثر لوگوں کو اس وقت تک پتا نہیں چلتا جب تک معمولی چوٹ یا گرنے سے ہڈی نہ ٹوٹ جائے۔

اس حالت میں ہڈیوں کی مضبوطی اور کثافت کم ہونے لگتی ہے، جس کے باعث ہڈیاں آسانی سے ٹوٹ سکتی ہیں۔ اچانک کمر کے اوپری حصے میں درد، قد کا کم ہونا یا جسم کا آگے کی طرف جھک جانا اس بیماری کی ممکنہ علامات ہو سکتی ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق اس بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج سے ہڈیوں کے ٹوٹنے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان علامات کو بڑھتی عمر کا عام حصہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

آسٹیوپوروسس کیا ہے؟

آسٹیوپوروسس میں ہڈیاں آہستہ آہستہ کمزور اور بھربھری ہونے لگتی ہیں۔ اس بیماری میں ہڈیوں کے اندر موجود مضبوطی کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث معمولی چوٹ، گرنے یا بعض اوقات روزمرہ کی عام سرگرمیوں کے دوران بھی ہڈی ٹوٹ سکتی ہے۔

اس بیماری کو خاموش بیماری اس لیے کہا جاتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اکثر کوئی واضح علامت سامنے نہیں آتی۔ بہت سے لوگوں کو اس کا علم اس وقت ہوتا ہے جب ان کی کلائی، کولہے یا ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہو جاتا ہے۔

یہ بیماری مردوں اور خواتین دونوں کو متاثر کر سکتی ہے، تاہم خواتین میں مینوپاز کے بعد اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ایسٹروجن نامی ہارمون کی سطح میں کمی ہے، جو ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مردوں میں بھی عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں کی کثافت کم ہو سکتی ہے۔

کمر درد اور جسمانی ساخت میں تبدیلی خطرے کی علامت

آسٹیوپوروسس کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ہڈیاں کمزور ہونے کے باوجود انسان کو طویل عرصے تک کسی خاص تکلیف کا سامنا نہیں ہوتا۔ تاہم جب بیماری بڑھ جائے تو بعض علامات سامنے آ سکتی ہیں۔

کمر کے اوپری حصے میں اچانک درد ہونا، قد میں کمی محسوس ہونا اور کمر کا آگے کی طرف جھک جانا ایسی علامات ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔ ریڑھ کی ہڈی کے مہرے کمزور ہو کر دب سکتے ہیں یا ان میں فریکچر ہو سکتا ہے، جس سے درد اور جسمانی ساخت میں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔

اگر کسی بزرگ کو معمولی سی چوٹ یا گرنے کے بعد ہڈی ٹوٹ جائے تو اسے محض حادثہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی وجہ ہڈیوں کی کمزوری بھی ہو سکتی ہے۔

ہڈیوں کے فریکچر کے باعث چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے اور روزمرہ کے دوسرے کام کرنے میں بھی دشواری ہو سکتی ہے۔ اسی لیے کمر درد یا جسم کے جھکاؤ میں غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں ڈاکٹر سے معائنہ کرانا ضروری ہے۔

کن لوگوں کو آسٹیوپوروسس کا زیادہ خطرہ ہے؟

عمر بڑھنا اس بیماری کا ایک اہم خطرہ ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی کئی عوامل ہڈیوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔ خاندان میں آسٹیوپوروسس یا کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کی تاریخ رکھنے والے افراد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

جسمانی وزن بہت کم ہونا، غذا میں کیلشیم کی کمی، وٹامن ڈی کی کمی اور ورزش نہ کرنا بھی ہڈیوں کی مضبوطی متاثر کر سکتے ہیں۔ سگریٹ نوشی اور الکحل کا زیادہ استعمال بھی خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ تھائیرائڈ کے بعض مسائل، کھانے پینے سے متعلق کچھ بیماریاں اور مخصوص ادویات کا طویل عرصے تک استعمال بھی آسٹیوپوروسس کا سبب بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، سوزش کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی بعض اسٹیرائڈ ادویات طویل عرصے تک لینے سے ہڈیوں کی کمزوری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اگر کسی شخص کو پہلے معمولی چوٹ سے فریکچر ہو چکا ہو یا وہ ان خطرات میں سے کسی کا شکار ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا مفید ہے۔

آسٹیوپوروسس کی بروقت تشخیص سے ہڈیوں کو مزید کمزور ہونے اور فریکچر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ڈاکٹر مریض کی علامات، خاندانی تاریخ، استعمال ہونے والی ادویات اور ماضی میں ہونے والے فریکچر کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے۔ ضرورت کے مطابق مختلف ٹیسٹ بھی تجویز کیے جا سکتے ہیں۔

ہڈیوں کی مضبوطی جانچنے کے لیے ایک اہم ٹیسٹ بون منرل ڈینسٹی ٹیسٹ ہے، جسے عموماً ڈیکسا اسکین کہا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے ہڈیوں میں معدنیات کی مقدار اور کثافت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اس کی مدد سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ہڈیاں کتنی مضبوط ہیں اور فریکچر کا خطرہ کس حد تک ہے۔

ڈاکٹر ضرورت کے مطابق خون کے ٹیسٹ بھی کروا سکتا ہے تاکہ وٹامنز کی کمی، تھائیرائڈ کے مسائل یا ہڈیوں کو متاثر کرنے والی دوسری بیماریوں کا پتا چل سکے۔ یہ ٹیسٹ ہر شخص کے لیے ضروری نہیں ہوتے، بلکہ ان کا فیصلہ مریض کی عمر، علامات اور خطرے کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لیے کیا کریں؟

آسٹیوپوروسس سے بچاؤ اور اس کے علاج میں متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنا اہم ہے۔

کیلشیم ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے، جبکہ وٹامن ڈی جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ دودھ، دہی اور دیگر دودھ سے بنی غذائیں کیلشیم حاصل کرنے کے اچھے ذرائع ہیں۔ سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں، گری دار میوے اور دوسری غذائیت سے بھرپور غذائیں بھی متوازن خوراک کا حصہ ہونی چاہییں۔

اگر غذا سے مطلوبہ مقدار میں کیلشیم یا وٹامن ڈی حاصل نہ ہو رہا ہو تو ڈاکٹر سپلیمنٹ تجویز کر سکتا ہے۔ تاہم اپنی مرضی سے زیادہ مقدار میں سپلیمنٹ یا ہڈیوں کی دوا استعمال نہیں کرنی چاہیے۔

پیدل چلنے اور وزن برداشت کرنے والی مناسب ورزشوں سے ہڈیوں، پٹھوں اور جوڑوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ورزش سے توازن بہتر ہونے اور گرنے کے خطرے کو کم کرنے میں بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔ البتہ جن افراد کی ہڈیاں پہلے ہی کمزور ہوں یا فریکچر ہو چکا ہو، انہیں ورزش کا طریقہ ڈاکٹر یا تربیت یافتہ ماہر کی نگرانی میں طے کرنا چاہیے۔

سگریٹ نوشی سے پرہیز، الکحل سے گریز یا اس کے استعمال میں کمی اور گھر میں گرنے سے بچاؤ کے انتظامات بھی اہم ہیں۔ گھر میں مناسب روشنی رکھنا، پھسلن سے محفوظ جوتے پہننا اور ضرورت کے مطابق باتھ روم یا سیڑھیوں کے قریب سہارا لگانا مفید ہو سکتا ہے۔

آسٹیوپوروسس ایک سنجیدہ بیماری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مریض معمول کی زندگی نہیں گزار سکتا۔ مناسب علاج، غذا میں ضروری تبدیلیوں اور محفوظ جسمانی سرگرمیوں سے ہڈیوں کے مزید فریکچر کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق اچانک کمر درد، قد میں کمی یا جسمانی ساخت میں غیر معمولی تبدیلی کو صرف بڑھتی عمر کا اثر سمجھنا درست نہیں۔ خاص طور پر بزرگ افراد میں معمولی چوٹ کے بعد ہڈی ٹوٹنے کی صورت میں طبی معائنہ ضروری ہے۔

WhatsApp
Get Alert