کوئٹہ میں گیس، بجلی، پانی کی عدم دستیابی اور گندگی کے ڈھیروں نے عوام کا جینا محال کر دیا، حکومتی ناانصافیوں کے خلاف منظم تحریک چلائیں گے: نصراللہ زیرے


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کوئٹہ شہر میں گیس پریشر کی کمی، بھاری بلوں، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، پانی کی عدم دستیابی، صفائی کی ابتر صورتحال، ٹریفک کی بدنظمی اور امن و امان کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ عوام کو ساتھ ملا کر حکومتی ناانصافیوں کے خلاف منظم احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔پشتونخوا نیپ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسی روشان، مرکزی سیکرٹری اللہ نور خان اور صوبائی سیکرٹری اول فقیر خوشحال کاسی نے ضلع کوئٹہ سے مربوط کوٹوال علاقائی کانفرنس کے کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی نظریاتی و اصولی سیاست، منشور اور آئین پر عملدرآمد اور عوامی حقوق کے لیے بروقت آواز اٹھانے کے باعث یہ تحریک عوام میں مقبولیت حاصل کرچکی ہے۔اس سے قبل کوٹوال علاقائی کانفرنس کا بند اجلاس پارٹی کی ضلعی سینئر معاون سیکرٹری ندا سنگر کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں سابق علاقائی سیکرٹری نے تنظیمی اور سیاسی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی۔ مندوبین نے جائزے کے بعد رپورٹ منظور کرلی اور نئے علاقائی ایگزیکٹو کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔انتخابی عمل کے نتیجے میں عبیداللہ سنزر علاقائی سیکرٹری، تاج الدین کاسی سینئر معاون سیکرٹری جبکہ سمیع اللہ مہترزئی، اصغر مشوانی، ایمل خان مشوانی، عرفان کاسی، خان کاکڑ اور راز محمد وطنیار معاونین منتخب ہوئے۔ صوبائی سیکرٹری اول فقیر خوشحال کاسی نے نومنتخب عہدیداروں سے حلف لیا۔ کانفرنس سے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری زمان خان کاکڑ اور دیگر رہنماں نے بھی خطاب کیا، جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض صوبائی ڈپٹی سیکرٹری رحمت اللہ صابر نے انجام دیے۔دوسری جانب پشتونخوا نیپ کے کوئٹہ شہر سے مربوط وزیر کاسی کاریز علاقائی یونٹ کی کانفرنس سے پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتونخوا نیپ اپنے عوام کی امنگوں کی ترجمان قومی سیاسی جماعت ہے، جو کوئٹہ سمیت جنوبی پشتونخوا کے عوام کے حقوق کے تحفظ اور مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے تمام شہری، خواہ ان کا تعلق کسی بھی قومیت یا زبان سے ہو، پارٹی کے پلیٹ فارم سے اپنے حقوق کے دفاع اور حصول کے لیے سیاسی جدوجہد کرسکتے ہیں۔کانفرنس میں علاقائی سیکرٹری نے گزشتہ تین سال کی کارکردگی رپورٹ پیش کی، جسے مندوبین نے جائزے کے بعد منظور کرلیا۔ بعدازاں انتخابی عمل کے ذریعے عصمت اللہ خان ترین علاقائی سیکرٹری، فرید کمال سینئر معاون جبکہ نعمان خان باروزئی، سہیل راجپوت، محمد اشرف ترین، محمد صدیق، وحید خان کاکڑ ایڈووکیٹ، صدام خان زرکون، فیض افغان، زین اللہ، نصیب اللہ اور محمد قاسم اچکزئی معاونین منتخب ہوئے۔ پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے نومنتخب عہدیداروں سے حلف لیا۔مقررین نے کوئٹہ کے شہری مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گیس پریشر میں شدید کمی اور گیس کمپنی کی جانب سے بھاری بلوں کے اجرا نے غریب عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ شہر کے مرکزی علاقوں اور گردونواح میں گندگی کے ڈھیر، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور پانی کی عدم دستیابی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔انہوں نے صوبائی حکومت کی ترقیاتی ترجیحات پر تنقید کرتے ہوئے دعوی کیا کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے اپنے علاقے میں چند ہزار آبادی کے باوجود 40 سے 50 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن میں ضرورت سے زیادہ سڑکیں، کالج اور اسپتال شامل ہیں۔ ان کے بقول بعض تعلیمی اور طبی اداروں میں طلبہ اور مریضوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ صوبائی دارالحکومت بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔مقررین نے کہا کہ کوئٹہ صوبے کا دارالحکومت اور بڑی آبادی کا مسکن ہونے کے باوجود مثر ترقیاتی منصوبہ بندی سے محروم ہے۔ شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور مختلف مقامات پر ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، جبکہ امن و امان کی صورتحال، بے روزگاری اور دیگر بنیادی مسائل نے شہریوں اور تاجروں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ کی ترقی اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کرکے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ مقررین نے واضح کیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی شہر کے عوام کو درپیش مسائل اور ان کے بقول حکومتی ناانصافیوں کے خلاف سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی اور عوام کو ساتھ ملا کر منظم احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔

WhatsApp
Get Alert