کیسکو کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ، شاہراہ پر بدامنی اور بارڈر بندش چمن کے عوام کا معاشی قتل عام ہے: پشتونخوامیپ

بااثر نادہندگان کو چھوٹ اور غریبوں پر ظلم کا بازار گرم، مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو بھرپور عوامی احتجاجی تحریک چلائیں گے: کبیر افغان


چمن(قدرت روزنامہ)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ضلع چمن کی ضلعی کمیٹی نے کیسکو کی جانب سے مبینہ ظالمانہ لوڈشیڈنگ، بھاری بجلی بلوں، شہر اور کوئٹہ چمن عالمی شاہراہ پر امن و امان کی خراب صورتحال اور ڈیورنڈ لائن پر تجارتی راستوں کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو درپیش مسائل فوری حل کیے جائیں، بصورت دیگر پارٹی بھرپور احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوگی۔پشتونخوامیپ ضلع چمن کی ضلعی کمیٹی کا ماہانہ اجلاس ضلعی قائم مقام سیکرٹری حاجی جمال خان اچکزئی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ضلعی کابینہ، مختلف تحصیلوں اور علاقائی ابتدائی یونٹوں کی رپورٹس پیش کی گئیں اور تنظیمی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کا خصوصی ایجنڈا تحریک آزادی کے رہنما خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی برسی کے سلسلے میں 2 دسمبر کو منعقد ہونے والے جلسے کی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔ اجلاس میں جلسے کو تاریخی اور کامیاب بنانے کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور کارکنوں کو بھرپور تیاریوں کی ہدایت کی گئی۔اجلاس سے پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری صورت خان کاکڑ، ضلعی قائم مقام سیکرٹری حاجی جمال خان اچکزئی اور ضلعی سینئر معاون سیکرٹری کریم خان ناظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چمن میں کیسکو کی جانب سے ظالمانہ لوڈشیڈنگ اور بے جا بلوں کے ذریعے عوام کا جینا دوبھر کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بجلی بلوں کی وصولی کے نام پر دوہرا معیار اپنایا جا رہا ہے، جہاں غریب صارفین کے کنکشن منقطع کیے جا رہے ہیں جبکہ بااثر نادہندگان کو مبینہ طور پر کھلی چھوٹ حاصل ہے۔مقررین نے چمن شہر اور کوئٹہ چمن عالمی شاہراہ پر امن و امان کی صورتحال کو انتہائی مخدوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ چوری، ڈکیتی اور بدامنی کے واقعات میں اضافے سے عوام میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے، جبکہ انتظامیہ صورتحال پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن اور بابِ دوستی سمیت تمام تجارتی راستوں کی بندش سے چمن کے ہزاروں محنت کش، تاجر اور عام شہری شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ اجلاس میں تجارتی سرگرمیوں کی بندش کو عوام کا معاشی قتل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس صورتحال نے مختلف طبقوں کے روزگار کو متاثر کیا ہے۔اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ کیسکو کی ناروا لوڈشیڈنگ کا خاتمہ، امن و امان کی بحالی اور ڈیورنڈ لائن پر تجارتی سرگرمیوں کی فوری بحالی یقینی بنائی جائے۔ شرکا نے خبردار کیا کہ مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں پشتونخوامیپ عوامی مسائل کے حل کے لیے بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔

WhatsApp
Get Alert