ترک جوڑے نے اپنی شادی والے دن فضول چیزوں کی بجائے کتنے ہزارلوگوں کاپیٹ بھرا؟

انقرہ(قدرت روزنامہ)ترکی میں ایک جوڑے نے شامی پناہ گزینوں کوکھاناکھلاکر ایک بہترین مثال قائم کی ۔یہ مثالی کارنامہ اپنی ہی ایک الگ نوعیت رکھتاہے کیونکہ اس طرح کااقدام اوروہ بھی اپنی شادی والے دن شاید ہی کسی اورنے انجام نہ دیاہو۔ترکش جوڑےکانام فتح اللہ ازمکولواورایسراپولٹ ہے جنہوں نے 4000شامی مہاجرین کوترکی کے شہرکیلس میں شادی میں بلایااورکھاناکھلایا۔ شادی کی تقریب میں دلہن نے ایک وسیع سفید لباس زیب تن کیاتھا۔اورسرپرڈھانپاہوا تھاجبکہ دولہا بھی سفید رنگ کے کوٹ اورسیاہ ٹائی پہنے ہوئے تھا۔شامی مہاجرین کھانا تقسیم کرنے والے بڑے ٹرکوں کے پیچھے کھڑے تھے۔

جوڑے نے فیصلہ کیا تھا کہ روایتی ضیافت کے استقبال کے لیے اپنے دوستوں اور اہل خانہ کی میزبانی کرنے کے بجائے وہ خانہ جنگی کے متاثرین کو کھانا کھلائیں گے۔ایک ویب سائٹ کے مطابق شادی کی ضیافت شامی مہاجرین کے ساتھ بانٹنے کا خیال دراصل دولہا کے والد کا فیصلہ تھا۔جنہوں نے اپنی شادی کے دن خوش قسمت بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ بانٹیں گے۔خیال رہے کہ مذکورہ جوڑے کی شادی سال 2015 میں ہوئی تھی تاہم جوڑے کی جانب سے شامی مہاجرین کو کھانا کھلانے کے بہترین اقدام کے چرچے آج بھی کیے جاتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert