’افغانستان کرکٹ ٹیم نے پاکستان کو بتایا کہ کھیلتے اور جیتتے کیسے ہیں‘

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) چیمپیئنز ٹرافی کے آٹھویں میچ میں افغانستان نے انگلینڈ کو 8 رنز سے شکست دے کر ایونٹ سے باہر کر دیا ہے۔ افغانستان کی جانب سے دیے گئے 326 رنز کے تعاقب میں انگلینڈ کی ٹیم 317 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔
افغانستان کی جیت کے بعد سوشل میڈیا صارفین اس پر مختلف تبصرے کرتے نظر آئے اور ایسے میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بھی خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ پاکستانی ٹیم کو افغانستان سے کچھ سیکھ لینا چاہیے۔
صبیح کاظمی لکھتے ہیں کہ افغانستان نے انگلینڈ کو 8 رنز سے ہرا دیا، افغانستان کا 1 روپیہ پاکستان میں 3 روپے 80 پیسے کا ویسے نہیں ہوا۔ ترقی ہر شعبے میں نظر آرہی ہے۔
ایکس پر ’مومنٹس اینڈ میموریز‘ نامی ایک پیج نے کہا کہ پاکستان کے عظیم بلے باز یونس خان افغانستان کی ٹیم کی کوچنگ کر رہے ہیں۔ پاکستان کا کوچ کون ہے؟
انس نامی صارف نے لکھا کہ افغانستان کرکٹ کا بچپن پاکستان میں گزرا اور ان کی پرورش ہماری کلب ٹیموں سے کھیل کر ہوئی، آج افغانستان کرکٹ ہم سے بہتر لگ رہی ہے اور ہماری کرکٹ تنزلی کا شکار ہوگئی ہے۔
شفیق احمد ایڈوکیٹ لکھتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ شائقین کو افغان کرکٹ ٹیم سے سیکھنا چاہیے کہ کیسے شیر کے منہ سے نوالہ چھینا جاتا ہے اور ایک موقع پر لگ رہا تھا کہ انگلینڈ جیت جائے گا لیکن افغان کھلاڑیوں نے بہترین کھیل کر فتح اپنے نام کر لی۔
افغانستان کی جیت پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافی اجمل جامی لکھتے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے افغانستان چیمپیئنز ٹرافی کے لیے پاکستان کے گروپ میں نہیں تھا۔
ذیشان خان نے لکھا کہ افغانستان کی جیت میں یونس خان کا بہت بڑا حصہ ہے، اور ہمارے ٹیم کو ایکسپائرعاقب جاوید سے چلایا جا رہا ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ افغانستان کی کرنسی اور ٹیم کا ہمیشہ مذاق اڑایا گیا ہے، آج افغان کرنسی اور ٹیم کس مقام پر ہیں؟ شاید ان کے ان معاملات میں سیاست کا عمل دخل نہیں، اگر پاکستانی کوچز باقی ٹیمز کی بہترین ٹریننگ کر سکتے ہیں تو اپنی ٹیم کو نااہل سیاسی لوگوں سے دور رکھ کر دنیا کی بہترین ٹیم بناسکتے ہیں۔
ایک ایکس صارف نے کہا کہ افغانستان نے پاکستان کو بتا دیا کہ کھیلتے کیسے ہیں اور جیتتے کیسے ہیں۔
مسافر نامی صارف نے لکھا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو افغانستان کرکٹ ٹیم سے سیکھنا چاہیے کہ کرکٹ کیسے کھیلنی ہے۔
سمیع اللہ لکھتے ہیں کہ کئی افغان کھلاڑیوں نے کرکٹ پاکستان میں کھیل کر سیکھی ہوگی لیکن وقت آگیا ہے کہ اب ہماری ٹیم ان سے سیکھے، خاص کر آخری اوورز میں باؤلنگ اور بیٹنگ میں جارحیت۔
ایک صارف نے افغانستان کی جیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم افغانستان کرکٹ ٹیم سے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ سیکھ لے۔
واضح رہے کہ افغانستان کی جیت کے بعد سیمی فائنل میں پہنچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ 28 فروری کو آسٹریلیا کو شکست دے۔ اگر افغانستان یہ میچ ہار جاتا ہے، تو وہ چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہو جائے گا اور آسٹریلیا اور جنوبی افریقا سیمی فائنل میں پہنچ جائیں گے۔