جمعیت علماء اسلام کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انتخابی عمل سے باہر رکھنے، اس کی عوامی طاقت کو محدود کرنے، اور اس کے پیغام کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے،سینیٹر مولانا عبدالواسع


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع، جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ، اور صوبائی ترجمان دلاور خان کاکڑ نے 15 مئی 2025 کے ’’اسرائیل مردہ باد ملین مارچ‘‘ کی تیاریوں کے سلسلے میں اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ مارچ محض ایک احتجاجی مظاہرہ نہیں بلکہ ملتِ اسلامیہ کی ایمانی غیرت، سیاسی بیداری اور مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ عملی یکجہتی کا ایک عہدِ نو ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے زیر اہتمام کوئٹہ کی سرزمین 15 مئی کو ایک ایسا تاریخ ساز دن دیکھنے جا رہی ہے۔
جہاں لاکھوں اہل ایمان، غیرت مند فرزندانِ اسلام اور جمعیت کے وفادار کارکنان قبل اول کے تحفظ، فلسطینی مظلوموں کی حمایت اور صیہونی ظلم و استبداد کے خلاف متحد ہو کر اعلان کریں گے کہ امتِ مسلمہ ابھی زندہ ہے، اور ایمان کی حرارت ابھی سرد نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کی قیادت نے اس عظیم الشان مارچ کی تیاریوں کو حتمی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ہر ضلع، ہر یونٹ، ہر کارکن متحرک ہے۔ گلی گلی، مسجد مسجد، کوچہ کوچہ، بازار بازار پیغامِ فلسطین کو عام کیا جا رہا ہے۔ اہلِ درد اور اہلِ ضمیر اس وقت سراپا سوال ہیں کہ امت کب جاگے گی؟ اور جمعیت کا ہر کارکن جواب دے رہا ہے کہ ہم وہ چراغ ہیں جو ظلم کی آندھیوں میں بھی بجھنے والے نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ لمحہ ہوگا جب دنیا مشاہدہ کرے گی کہ ایک ایسی جماعت، جس کے دل میں امت کا درد، سینے میں ایمان کی حرارت اور فکر میں اسلام کی بقا کا شعور ہو، کس طرح صیہونی سازشوں کو للکارتی ہے۔
15 مئی کا دن فکری انقلاب، سیاسی شعور اور دینی حمیت کے اظہار کا دن ہوگا، جب قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن کی بصیرت افروز اور ولولہ انگیز خطاب کوئٹہ سے دنیا بھر میں گونجے گا۔ اْن کا خطاب صرف تقریر نہیں بلکہ منشورِ امت، لائحہ عملِ ملت، اور للکارِ وقت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ قائد جمعیت عالمی استعمار، صیہونی طاقتوں اور ان کے مقامی سہولت کاروں کی سازشوں کو نہایت مدلل انداز میں بے نقاب کریں گے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ فقط فلسطینیوں کا نہیں، بلکہ پوری امت کا اجتماعی زخم ہے۔ وہ دنیا سے سوال کریں گے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوام متحدہ، اور تہذیب کا دعویٰ کرنے والے ادارے کہاں ہیں جب معصوم بچوں کی لاشیں، ماؤں کی چیخیں، اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اْن کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ قائد کا خطاب صرف خارجہ محاذ تک محدود نہ ہوگا بلکہ پاکستان کی داخلی سیاسی صورت حال پر بھی گہری روشنی ڈالے گا۔ وہ واضح کریں گے کہ کس طرح غیرجمہوری اقدامات، آئینی قدغنیں، اور دینی قوتوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انتخابی عمل سے باہر رکھنے، اس کی عوامی طاقت کو محدود کرنے، اور اس کے پیغام کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ جماعت اسٹیٹس کو کو چیلنج کرتی ہے اور مغربی تہذیب کے خوشنما نقاب کو نوچتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت بھی آشکار کی جائے گی کہ جمعیت کا “جرم” یہ ہے کہ وہ استعمار اور صیہونیت کے ایجنڈے کی راہ میں ایک مضبوط رکاوٹ ہے۔ وہ فلسطین، کشمیر، افغانستان اور پورے عالم اسلام کے مظلوموں کی آواز ہے۔ وہ نظام مصطفیٰ کی داعی، نظریہ پاکستان کی محافظ، اور دینی مدارس کی ترجمان ہے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہر دور میں اسے دبانے کی سازشیں ہوئیں، مگر وہ ہر بار پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ ابھری۔اسی کے ساتھ ساتھ، بلوچستان کے تمام اضلاع میں قائدین کے تنظیمی دورے جاری ہیں۔ کارکنان کو منظم کیا جا رہا ہے، عوام میں شعور بیدار کیا جا رہا ہے، اور مارچ کی دعوت ہر دروازے تک پہنچائی جا رہی ہے۔
یہ بیداری صرف فلسطین کے حق میں نہیں، بلکہ اپنی قومی خودمختاری، آئینی حقوق اور اسلامی شناخت کے دفاع کا شعور بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مارچ محض ایک احتجاج نہیں بلکہ امت کی نشاۃِ ثانیہ کا ایک سنگِ میل ہے۔ یہ صدائے حق، للکارِ وقت، اور مظلوموں کے لیے اْمید کی کرن ہے۔ جمعیت کے کارکنان جانتے ہیں کہ فلسطینی خون اْن کی غیرت پر قرض ہے، اور وہ یہ قرض ادا کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھ سکتے۔ 15 مئی کو کوئٹہ میں ہونے والا یہ ملین مارچ ظلم کے ایوانوں پر وہ دستک دے گا جو تاریخ کی راہوں میں گونجتی رہے گی۔اور یہی ہے جمعیت کا پیغام: حق بات کہو، ڈرو نہیں۔ مظلوم کا ساتھ دو، تھکو نہیں۔ باطل سے ٹکراؤ، جھکو نہیں۔ یہی قیادت کا درس ہے، یہی کارکنان کا عزم، اور یہی 15 مئی کے اسرائیل مردہ باد ملین مارچ کی روح ہے۔

WhatsApp
Get Alert