انسانی حقوق کے سب سے بڑے ادارے HRCP کو شدید دباؤ اور پابندیوں کا سامنا، ادارے کا تشویشناک بیان


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان کے سب سے بڑے انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے اسے شدید دباؤ، غیر قانونی اقدامات اور بلاجواز پابندیوں کا سامنا ہے، جنہوں نے ادارے کی معمول کی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
HRCP کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ:
“گزشتہ چند مہینوں میں، ایچ آر سی پی کو من مانے، غیر قانونی اور بلاجواز اقدامات کے ایک سلسلے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، جس سے ادارے کو اپنی سرگرمیوں کی مؤثر انجام دہی میں مشکلات درپیش ہیں۔ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران دباؤ میں جو شدت آئی ہے، وہ ادارے کی کئی دہائیوں پر محیط تاریخ میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔”
ادارے نے مزید کہا کہ یہ صورتِ حال نہ صرف انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے خطرناک ہے بلکہ پاکستان میں شہری آزادیوں کے لیے بھی ایک سنجیدہ خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔
معروف صحافی بے نظیر شاہ کی رپورٹ کے مطابق، ادارے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیچھے ریاستی اداروں کی مداخلت اور آزاد آوازوں کو دبانے کی منظم کوششیں شامل ہیں۔
HRCP نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کا نوٹس لے اور ادارے کو اس کے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دے۔

WhatsApp
Get Alert