محمود خان اچکزئی: نصف صدی کی جدوجہد اور اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی

تحریر ‘ ظفراللہ اچکزئی


محمود خان اچکزئی کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جانب سے اپوزیشن لیڈر نامزد کیا جانا محض ایک سیاسی چال نہیں بلکہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایک ایسے رہنما کے اعتراف کے مترادف ہے جس نے نصف صدی سے زائد عرصہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ڈٹ کر جمہوریت، آئین اور ووٹ کی عزت کے لیے جدوجہد کی۔ پی ٹی آئی کے کارکن اس فیصلے پر خوشیاں منا رہے ہیں تو مسلم لیگ (ن) اور اس کے حامی طبقے اس نامزدگی پر تنقید کرتے ہوئے پرانی تقاریر اور مراد سعید کے بیانات کا حوالہ دیتے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ عمران خان نے آخر اچکزئی کو ہی کیوں چنا؟ اس کا جواب موجودہ اسمبلی میں موجود مزاحمتی کردار ہے، کیونکہ یہ وہ واحد رہنما ہیں جن کی تقریروں پر ڈیڑھ سال سے پابندی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی کے حکم پر نہ لائیو نشر ہوسکتی ہیں، نہ اسمبلی ریکارڈ کا حصہ بنتی ہیں اور نہ ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ یہ پابندی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی آواز طاقتور حلقوں کے لیے سب سے زیادہ ناگوار ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب عمران خان نواز شریف حکومت کے خلاف دھرنا دے کر اسلام آباد پر چڑھائی کر رہے تھے، تو انہی دنوں محمود خان اچکزئی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر اسے اداروں کی سازش قرار دے رہے تھے۔ جب سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل کیا تو وہ پہلے رہنما تھے جو پنجاب ہاؤس پہنچے اور نواز شریف کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اسٹیبلشمنٹ کو للکارا۔ دسمبر 2017 میں جب نواز شریف کو نااہل کیا گیا تو انکی جماعت کے لوگ اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے وہی محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ میں تاریخی جلسہ منعقد کرکے نواز شریف کو شرکت کی دعوت دی کوئٹہ کے تاریخی جلسے میں نواز شریف کے ساتھ اسٹیج پر ان کی موجودگی اس بات کی گواہی ہے کہ وہ مشکل وقت میں جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مگر یہ کوئی نئی کہانی نہیں، یہ مزاحمتی روایت ان کے والد خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی سے شروع ہوئی تھی جنہوں نے انگریزوں کے خلاف تحریکوں سے لے کر پاکستانی مارشل لاؤں تک اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزارا۔ وہ 1973 کے آئین کے اولین حامی تھے اور جمہوری جدوجہد کی پاداش میں شہید کیے گئے۔ یہی وراثت محمود اچکزئی نے 1970 کے بعد سنبھالی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو ایک مضبوط جمہوری قوت بنایا۔
جنرل ضیاء کے مارشل لا میں انہوں نے تحریک بحالی جمہوریت (MRD) میں بھرپور کردار ادا کیا۔ 1988 اور 1990 میں وہ قومی اسمبلی پہنچے اور ہمیشہ پارلیمانی بالادستی اور صوبائی خودمختاری کا مقدمہ لڑتے رہے۔ 2002 میں مشرف کے ریفرنڈم کے خلاف کھل کر بولے، 2008 میں عمران خان، قاضی حسین احمد، اختر مینگل اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ انتخابی بائیکاٹ کیا اور اصول پر ڈٹے رہے۔ 2013 میں ان کی جماعت بلوچستان اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بنی مگر طاقتور قوتوں نے ان کی حکومت نہ بننے دی اور بالآخر 2017 میں نواز شریف کے حق میں کھڑے ہونے کی سزا ان کی مخلوط حکومت کے خاتمے کی صورت میں ملی۔
2018 اور 2024 کے انتخابات میں پشتونخوا میپ نے کئی نشستیں بھاری اکثریت سے جیتیں مگر نتائج تبدیل کیے گئے تاکہ ان کی عوامی قوت کمزور ہو۔ اس سب کے باوجود انہوں نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر نواز شریف، مریم نواز اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر جمہوریت کی لڑائی لڑی۔ کوئٹہ کا تاریخی جلسہ، جس میں نواز شریف نے لندن سے خطاب کیا اور مریم نواز نے بھی دباؤ کے باوجود شرکت کی، انہی کی قیادت میں منعقد ہوا۔ وہ آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں کہ پاکستان کی اصل لڑائی جمہوریت اور ووٹ کی عزت کی ہے۔
اس طویل پس منظر میں دیکھیں تو عمران خان کا فیصلہ وقتی حکمتِ عملی نہیں بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ محمود خان اچکزئی پارلیمان میں واحد ایسی آواز ہیں جو نصف صدی پر محیط قربانیوں، اصولوں اور عوامی حاکمیت کی سیاست کی نمائندہ ہے۔ ان کی نامزدگی دراصل پاکستان کی اس تاریخ کو خراجِ تحسین ہے جو سمجھوتوں اور مفاہمتوں کے برعکس مزاحمت اور اصولوں کی علامت رہی ہے۔

WhatsApp
Get Alert