بلوچستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری، 10 کیمپ بند، 85 ہزار افراد وطن واپس

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت بلوچستان بھر سے افغان مہاجرین کے انخلاء کا سلسلہ آج (22 اکتوبر 2025) بھی جاری ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، صوبے میں افغان مہاجرین کے 10 کیمپوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق، ان بند کیے جانے والے کیمپوں میں مجموعی طور پر 85 ہزار مہاجرین مقیم تھے، جنہیں اب مکمل طور پر ان کے وطن واپس بھجوا دیا گیا ہے۔ یہ کیمپ کوئٹہ، پشین، لورالائی، چاغی اور قلعہ عبداللہ کے اضلاع میں قائم تھے۔
رپورٹس کے مطابق، صرف دو روز قبل 20 اکتوبر کو چمن بارڈر کے راستے 550 خاندانوں پر مشتمل تقریباً 3,400 افراد اپنے ملک واپس روانہ ہوئے۔ اس سے قبل ستمبر کے مہینے میں بھی انخلاء کے تیسرے مرحلے کے دوران 30 ہزار مہاجرین بلوچستان سے واپس گئے تھے۔
ایک طرف رضاکارانہ واپسی کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کیا جا رہا ہے۔ چند روز قبل کوئٹہ شہر سے غیر قانونی طور پر مقیم 3,888 افغان مہاجرین کو گرفتار کیا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حکام کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ انخلاء کے عمل کے دوران کسی بھی قسم کا تحقیر آمیز رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام افراد، خاص طور پر خواتین، بزرگوں اور بچوں کی عزت نفس کا مکمل خیال رکھا جائے۔
مہاجرین کے انخلاء کے باعث صوبے کی معیشت پر بھی واضح اثرات مرتب ہو رہے ہیں، بالخصوص پراپرٹی کے شعبے میں، جہاں قیمتوں میں 70 سے 80 فیصد تک نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
