بلوچستان: سرکاری ملازمین کا ڈی آر اے الاؤنس :معاملہ صوبائی کابینہ میں پیش کیا جائے گا، منظوری کی صورت میں اطلاق جولائی سے ہوگا، کمیٹی کی سفارشات تیار

کوئٹہ(قدرت روزنامہ) بلوچستان کے سرکاری ملازمین کے لیے ڈی آر اے (Disparity Reduction Allowance) الاؤنس کی منظوری کا معاملہ حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، تاہم اس کا فیصلہ اب صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ یہ بات وزیر خزانہ بلوچستان میر شعیب نوشیروانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر قائم کردہ چار رکنی کمیٹی (جس میں وہ خود، محترمہ راحیلہ درانی، اسفند کاکڑ اور اقبال شاہ شامل تھے) نے ملازمین کے نمائندوں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں۔ کمیٹی نے صوبے کی مالی صورتحال اور مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملازمین کے مطالبات کو جائز قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الاؤنس میں ہر 5 فیصد اضافے سے صوبائی خزانے پر تقریباً 3.5 سے 4 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑتا ہے، اور اس کے مجموعی اثرات کا بغور جائزہ لیا گیا ہے۔
میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ کمیٹی نے اپنی سفارشات وزیر اعلیٰ کو پیش کر دی ہیں اور یہ معاملہ گزشتہ کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں بھی شامل تھا۔ تاہم، انہوں نے وزیر اعلیٰ سے درخواست کی کہ چونکہ کمیٹی کے دیگر تینوں اراکین اجلاس میں موجود نہیں تھے، اس لیے اس اہم معاملے پر حتمی فیصلے سے قبل ان کی موجودگی ضروری ہے تاکہ کابینہ کو مکمل بریفنگ دی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے ان کی درخواست منظور کر لی۔
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ڈی آر اے الاؤنس کی منظوری کی صورت میں اس کا اطلاق گزشتہ جولائی سے ہوگا، اس لیے ملازمین کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعلیٰ ملازمین کی کارکردگی میں بہتری اور اصلاحات کے بھی خواہاں ہیں اور الاؤنس کی منظوری کے ساتھ ساتھ ان پہلوؤں پر بھی غور کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ماضی میں بلوچستان کے ملازمین کو ایک 10 فیصد اضافہ نہیں مل سکا تھا، جس کی وجہ سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں تنخواہوں میں فرق پیدا ہوا۔
اب ڈی آر اے الاؤنس کی منظوری کا حتمی فیصلہ صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں متوقع ہے، جہاں کمیٹی اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
