بلوچستان کے سیاسی و سماجی رہنماؤں کا افغان مہاجرین کے نام پر پاکستانی شہریوں کو تنگ کرنیکی مذمت
وزیراعلیٰ کی ہدایت کے باوجود افغان مہاجرین کے ساتھ نازیبا سلوک قابلِ افسوس، رہنماؤں کا مؤقف

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)بلوچستان کے سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے افغان مہاجرین کے نام پر افغان شہریوں کے ساتھ سخت رویے اور تذلیل کو قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے متعلقہ انتظامیہ کو واضح ہدایت جاری کی ہے
کہافغان مہاجرین کے ساتھ عزت اور شائستہ رویہ اختیار کیا جائے، تاہم کچھ علاقوں میں عوام اور خواتین کے ساتھ نازیبا سلوک کیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔
جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع، جماعت اسلامی کے صوبائی امیر و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن اور جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے صوبائی امیر مولانا عبدالقادر لونی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ افغان مہاجرین کے نکالنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن یہ عمل وقت اور طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔
ہنماؤں نے کہا کہ پاکستان نے چالیس سال تک افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی ہے اور اس کی عالمی سطح پر تعریف کی گئی۔ موجودہ اقدامات نہ صرف مہمان نوازی اور قبائلی روایات کے خلاف ہیں بلکہ افغان مہاجرین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کو باہمی اتفاق رائے اور عزت کے ساتھ حل کیا جائے تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اور انتظامیہ شائستہ انداز میں افغان شہریوں کے نکالنے کا عمل انجام دے۔ رہنماؤں نے بلوچ قوم پرست جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں انتظامیہ کے ساتھ مل کر ایک شفاف اور عزت دار طریقہ کار وضع کریں تاکہ سب کے لیے قابل قبول حل نکل سکے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کے مطابق انتظامیہ نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان مہاجرین کے ساتھ عزت و احترام کا برتاؤ یقینی بنایا جائے گا اور قانون اور ضابطہ کار کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔
