پنجاب ترقی یافتہ، پشتونخوا محرومیوں کا شکار — خوشحال خان کاکڑ کا مردان جلسے سے خطاب


*مردان(قدرت روزنامہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین *خوشحال خان کاکڑ* اور شریک چیئرمین *مختار خان یوسفزئی* نے کہا ہے کہ مردان پشتون قومی سیاسی تحریک کا ایک تاریخی اور مردم خیز مرکز رہا ہے اور یہاں کے عوام نے قومی حقوق، حقِ خود اختیاری اور محنت کش طبقات کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یہ بات انھوں نے *مردان شوبلہ سیلانی دیرے* میں منعقدہ بڑے نمائندہ جلسہ عام سے خطاب میں کہی۔
جلسہ کی صدارت ممتاز قومی شخصیت *اختر گل لالا* نے کی جبکہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں *رضا محمد رضا، اشرف خان ہوتی، عبدالقیوم، علی حیدر، گوہر خان* سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا اور شرکا کو جلسے کی کامیابی پر مبارکباد دی۔
خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ پشتونخوا کی سرزمین ہزاروں سال سے ہمارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر محفوظ رکھی ہے اور یہ علاقے قدرتی وسائل، دریا، جنگلات اور پہاڑوں کے حوالے سے بے مثال نعمتوں سے مالا مال ہیں، مگر موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے پشتون عوام محرومی، پسماندگی اور عدم ترقی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا:
> “پاکستان ایک وفاقی ملک ہے — آئین کے تحت تمام قوموں کو یکساں حقوق ملنے چاہئیں۔ لیکن عملی طور پر پشتونخوا سے وسائل نکال کر دوسرے صوبوں کی ترقی کو سہارا دیا جا رہا ہے۔”
چیئرمین نے افسوس کا اظہار کیا کہ پشتون محنت کشوں کو روزگار کے مناسب مواقع میسر نہیں، کروڑوں پشتون بیرونِ وطن یا دوسرے صوبوں میں مزدوری کر رہے ہیں، جبکہ پشتونخوا میں صنعتیں اور بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقامی لوگوں کو اپنی زمینوں اور وسائل پر *حقِ ملکیت اور اختیار* دیا جائے، اور معدنی وسائل، دریا اور پانی کے شیئر پر شفاف اور منصفانہ پالیسیاں نافذ ہوں۔
مختار خان یوسفزئی اور دیگر مقررین نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ پارٹی تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرتے ہوئے عوامی جدوجہد کو تیز کیا جائے گا۔ جلسے میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ضلعی اور یونین سطح پر تنظیمی یونٹ فعال بنائے جائیں تاکہ مقامی سطح پر عوامی مسائل کا حل ممکن بنایا جا سکے۔
مقررین نے کہا کہ پشتونخوا کو دہشت گردی، لا قانونیت اور غربت سے نکالنے کے لیے سیاسی یکجہتی اور منظم جدوجہد ضروری ہے۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پارٹی کے تحت متحد ہو کر اپنے حقوق کے حصول کے لیے آئندہ سیاسی اور جمہوری مراحل میں بھرپور حصہ لیں۔
جلسے میں سینکڑوں کارکنان، قبائلی عمائدین اور عوامی نمائندوں نے شرکت کی اور اس موقع پر قومی ترانے اور تقاریر کے بعد ملی یکجہتی کے اظہار کے ساتھ جلسہ اختتام پذیر ہوا۔

WhatsApp
Get Alert